بسم اللہ الرحمن الرحیم

مضامین

رمضان المبارک: فیوض و برکات کا مہینہ

رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں انسان اپنے رب کے قریب ہونے، اپنے نفس کی اصلاح کرنے اور روحانی پاکیزگی حاصل کرنے کا خصوصی موقع پاتا ہے۔ رمضان صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ صبر، شکر، تقویٰ اور ایثار کا عملی درس دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس بابرکت مہینے کو بے شمار فضائل سے نوازا ہے۔ اسی مہینے میں قرآنِ مجید نازل ہوا، جو انسانیت کے لیے ہدایت اور روشنی کا سرچشمہ ہے۔ روزہ انسان کو نظم و ضبط، برداشت اور خود احتسابی کی تربیت دیتا ہے۔ جب ایک مسلمان سحری سے افطاری تک حلال چیزوں سے بھی پرہیز کرتا ہے تو اس کے دل میں اللہ کی اطاعت اور خوف مزید مضبوط ہوتا ہے۔ یہی تقویٰ رمضان کا اصل پیغام ہے۔

رمضان المبارک ہمیں مساوات اور ہمدردی کا درس بھی دیتا ہے۔ جب صاحبِ حیثیت افراد بھوک اور پیاس کی شدت کو محسوس کرتے ہیں تو انہیں معاشرے کے غریب اور مستحق افراد کی مشکلات کا حقیقی اندازہ ہوتا ہے۔ یہی احساس انسان کو زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کی طرف راغب کرتا ہے۔ اس مہینے میں کی گئی نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اس لیے مسلمان زیادہ سے زیادہ عبادات، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور دعا کا اہتمام کرتے ہیں۔

یہ مہینہ اصلاحِ معاشرہ کا بھی سنہری موقع ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم جھوٹ، غیبت، حسد اور دیگر برائیوں سے مکمل اجتناب کریں۔ رمضان ہمیں باہمی محبت، رواداری اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم اس مہینے کی روح کو سمجھ لیں اور اپنی زندگیوں میں اس کے اثرات کو باقی رکھیں تو یقیناً ہمارا معاشرہ امن، اخوت اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

شبِ قدر کی عظمت بھی رمضان ہی کا خاصہ ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دی گئی ہے۔ یہ رات ہمیں عبادت، توبہ اور استغفار کے ذریعے اپنی بخشش کا سنہری موقع فراہم کرتی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس بابرکت رات کی قدر کرتے ہوئے اپنے رب کو راضی کر لیتے ہیں۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ رمضان المبارک محض ایک مہینہ نہیں بلکہ ایک تربیتی مدرسہ ہے، جو ہمیں سال بھر کے لیے نیکی، تقویٰ اور صبر کا سبق دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس ماہِ مقدس کی برکتوں سے بھرپور استفادہ کریں اور اسے اپنی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنائیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی حقیقی روح کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button