وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایک بار پھر افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دراندازی کو مکمل طور پر روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان کو فتنہ الخوارج اور تحریک طالبان پاکستان کی حمایت بند کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افغانستان کی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اس حمایت کو کس طرح روکتی ہے، چاہے یہ اجتماعی طور پر ہو یا ان کے اندر موجود کچھ عناصر کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہو۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ پاک۔افغان مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ماہ کی چھ تاریخ کو منعقد ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی جو بھی حتمی شکل سامنے آئے گی، اس پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک تصدیقی نظام قائم کیا جائے گا۔ یہ نظام کسی بھی خلاف ورزی کی نشاندہی اور ضامن ممالک کی مداخلت کے وقت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
خواجہ آصف نے مذاکرات میں قطر اور ترکی کے تعمیری کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان دونوں ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو خاندانی رشتے کی مانند سمجھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پرامن بقائے باہمی کا خواہاں ہے، تاہم واضح کیا کہ افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر دونوں ممالک کے درمیان معمول کے دوطرفہ تعلقات ممکن نہیں۔
-
چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا نوجوان سائنس دانوں سے نئی ٹیکنالوجی تخلیق کرنے پر زور -
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے -
کینیڈا کی وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق -
صدر مملکت کا پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور -
وزیراعظم کی قومی اہمیت کے تمام منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت -
برطانوی ہائی کمشنر کی وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ملاقات، تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال
