وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایک بار پھر افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دراندازی کو مکمل طور پر روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان کو فتنہ الخوارج اور تحریک طالبان پاکستان کی حمایت بند کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افغانستان کی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اس حمایت کو کس طرح روکتی ہے، چاہے یہ اجتماعی طور پر ہو یا ان کے اندر موجود کچھ عناصر کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہو۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ پاک۔افغان مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ماہ کی چھ تاریخ کو منعقد ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی جو بھی حتمی شکل سامنے آئے گی، اس پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک تصدیقی نظام قائم کیا جائے گا۔ یہ نظام کسی بھی خلاف ورزی کی نشاندہی اور ضامن ممالک کی مداخلت کے وقت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
خواجہ آصف نے مذاکرات میں قطر اور ترکی کے تعمیری کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان دونوں ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو خاندانی رشتے کی مانند سمجھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پرامن بقائے باہمی کا خواہاں ہے، تاہم واضح کیا کہ افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر دونوں ممالک کے درمیان معمول کے دوطرفہ تعلقات ممکن نہیں۔
-
وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں -
وزیراعظم شہباز شریف اور کویتی ولی عہد کا علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال -
افغان سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں، اسحاق ڈار -
پاکستان اور کینیا کا دیرینہ دوستانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق -
وزیراعظم شہباز شریف کی 81ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی -
پاکستان اور کویت کا اعلیٰ سطحی روابط کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق
