اسلام آباد میں دہشت گرد حملے کی علماء و مشائخ کی شدید مذمت، قومی اتحاد کے عزم کا اعادہ

اسلام آباد: اسلام آباد اور راولپنڈی کے علماء و مشائخ نے حالیہ دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دشمن کی تمام سازشوں کو مکمل اتحاد کے ساتھ ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

یہ عزم آج اسلام آباد میں منعقدہ علماء و مشائخ کے ہنگامی اجلاس میں منظور کی گئی متفقہ قرارداد میں ظاہر کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کی۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق علماء و مشائخ نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومتِ پاکستان اور افواجِ پاکستان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

علماء و مشائخ نے واضح کیا کہ عبادت گاہوں میں نہتے نمازیوں کو نشانہ بنانا اسلامی تعلیمات، انسانی اقدار، آئینی و اخلاقی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔

اجلاس میں فتنہ الخوارج کی گمراہ کن سوچ اور دہشت گردی سے جڑے تمام بیانیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے والی تمام اندرونی و بیرونی سازشوں اور پراکسی سرگرمیوں کا قومی اتحاد اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون سے بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔

علماء و مشائخ نے اپنے خطبات، تقاریر، مدارس اور مذہبی اجتماعات میں امن، رواداری، اخوت اور باہمی احترام کے پیغام کو فروغ دینے اور نفرت انگیز و تکفیری نظریات کا بھرپور رد کرتے ہوئے نوجوان نسل کو انتہاپسندی سے محفوظ رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اجلاس میں مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامیہ اور انتظامی کمیٹیوں کے مابین روابط مضبوط کرنے اور مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع کے نظام کو فعال بنانے کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔

علماء و مشائخ نے اس امر پر زور دیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ریاستی اداروں، مذہبی قیادت، میڈیا اور عوام کے درمیان مشترکہ ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

اجلاس میں حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کی مکمل حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے، جبکہ شہداء کے خاندانوں کی کفالت اور زخمیوں کی فوری بحالی کو ترجیح دی جائے۔

علماء و مشائخ نے ملک بھر میں یکساں نماز کے اوقات کے نفاذ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے علماء کے تعاون پر شکریہ ادا کیا اور اس نظام کو باہمی مشاورت، اتفاقِ رائے اور محبت کے ساتھ مؤثر انداز میں نافذ کرنے پر اتفاق کیا۔

آئندہ ماہِ مقدس رمضان کے پیشِ نظر علماء و مشائخ نے قوم کو صبر، تقویٰ، اخوت، باہمی ہمدردی، رواداری اور خدمتِ خلق کا پیغام دیا اور خطباء و واعظین سے اپیل کی کہ وہ منبر و محراب سے اتحادِ امت، اخلاقی تربیت، بین المذاہب ہم آہنگی اور عبادات کے فروغ پر خصوصی توجہ دیں۔

اجلاس میں عوام اور مساجد کی انتظامیہ کو حالیہ واقعات کے تناظر میں احتیاط، برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ دشمن ایسے واقعات کے ذریعے قوم کو اشتعال دلانا اور انتشار پھیلانا چاہتا ہے، جس کا مقابلہ اتحاد، تعاون اور حکومت و افواجِ پاکستان پر مکمل اعتماد کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔

علماء و مشائخ نے دہشت گردی، فرقہ واریت اور نفرت پر مبنی تمام بیانیوں کو مسترد کرتے ہوئے مشترکہ دینی رہنمائی، قومی اتحاد اور باہمی تعاون کے ذریعے پاکستان میں امن، استحکام اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

مشترکہ اعلامیے میں متفقہ طور پر اعلان کیا گیا کہ علماء و مشائخ اور پوری قوم حکومتِ پاکستان اور افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے

Exit mobile version