اسلام آباد: پاکستان اور سات دیگر مسلم ممالک نے غزہ میں جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں پر اسرائیل کی شدید مذمت کی ہے۔
اس حوالے سے پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی خودمختاری مسلط کرنے، غیر قانونی بستیوں کے قیام کو مضبوط بنانے اور ایک نیا قانونی و انتظامی ڈھانچہ نافذ کرنے کے فیصلوں اور اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔
وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کی مسلسل توسیع پسندانہ پالیسیاں اور غیر قانونی اقدامات خطے میں تشدد اور تنازعات کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔
بیان میں ان تمام غیر قانونی اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی، دو ریاستی حل کو نقصان پہنچانے اور فلسطینی عوام کے اس ناقابلِ تنسیخ حق پر حملہ ہیں، جس کے تحت وہ 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں، جس کا دارالحکومت مقبوضہ القدس ہو۔ ان اقدامات سے خطے میں امن و استحکام کی جاری کوششیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات کی بھی توثیق کی کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے تمام غیر قانونی اقدامات کالعدم اور باطل ہیں اور یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بالخصوص قرارداد 2334، کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
قرارداد 2334 اسرائیل کی جانب سے 1967 کے بعد مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی القدس، کی آبادیاتی ساخت، حیثیت اور کردار کو تبدیل کرنے کے تمام اقدامات کی مذمت کرتی ہے۔
اسی طرح، بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی 2024 کی مشاورتی رائے میں بھی اس امر کی تصدیق کی گئی کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی پالیسیاں اور طرزِ عمل اور وہاں اس کی مسلسل موجودگی غیر قانونی ہے، اسرائیلی قبضے کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور مقبوضہ فلسطینی اراضی کے الحاق کو باطل قرار دیا گیا۔
