بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

پاکستان امریکی صنعت کاروں کے لیے ایک بڑی منڈی ہے، مسعود خان

امریکہ میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان امریکی صنعت کاروں کے لیے ایک بڑی منڈی ہے،ہمارے پاس انسانی سرمائے کا ایک بڑا اثاثہ ہے اور یہ بڑھ رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسکالرز، پالیسی سازوں، قانون سازوں، کاروباری شخصیات، کاروباری رہنمائوں اور پیشہ ورانہ افراد کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مسعود خان نے امریکی سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ جدید ترین مصنوعات تیار کرتے ہیں تو پاکستان میں آپ کے چوبیس کروڑ صارفین موجود ہیں۔ اگر آپ ہمارا موازنہ مغربی ایشیا کے ممالک سے کریں تو پاکستان ایک بڑا ملک ہے۔ یہ ذخیرہ ڈیجیٹل طور پر باقی دنیا کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اس کو ٹیکنالوجی کے استعمال پر عبور حاصل ہے ہمارے سینکڑوں ادارے مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

مسعود خان نے کہا کہ پاکستان اس ایکوسسٹم میں انتہائی اہم ملک ہے جس میں وسطی ایشیائی ریاستیں، افغانستان، ایران، ترکی، خلیجی ریاستیں، مشرق وسطی اور شمالی افریقہ شامل ہیں۔

سفیر پاکستان نے پاک امریکہ تعلقات، دہشت گردی کے خلاف جنگ، افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد پاک امریکہ تعلقات کی ازسر نو ترتیب، پاک بھارت تعلقات اور علاقائی استحکام جیسے معاملات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے خاص طور پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے مواقعوں کواجاگر کیا۔

انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات کا تاریخی پس منظر اور امن اور جنگ پر مبنی مختلف ادوار میں دونوں ملکوں کی شراکت دا داری کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔

مزید پڑھیے  عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو توہین عدالت کے نوٹس

دہشت گردی کے خلاف جنگ خصوصا دونوں ممالک کے تعاون پر اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا افغانستان میں امریکی مشن کی ناکامی پر بسا اوقات پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ میں ذاتی طور پر مانتا ہوں کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ ہم نے تعاون کیا اور مل کر دہشت گرد تنظیموں کی کمر توڑ دی۔ القاعدہ اب ویسی تنظیم نہیں ہے جو 2001 -02 میں ہوا کرتی تھی۔ اب دنیا دہشت گردی کے خطرے سے آگاہ ہے اور اس سے نمٹنا جانتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2021 کے اواخر اور 2022 کے اوائل میں پاکستان اور امریکہ کی قیادت نے اپنے تعلقات کو از سر نو ترتیب دینے کا فیصلہ کیا۔ دونوں ملکوں کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ ہم انسداد دہشت گردی میں اپنا تعاون جاری رکھیں گے، علاقائی استحکام کو فروغ دیں گے، بات چیت کو برقرار رکھیں گے، ہم خطے کو کسی بھی جوہری عدم استحکام سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ، ہم پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے میں اپنی توانائیاں صرف کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تجارت اور سرمایہ کاری، قابل تجدید توانائی، سبز ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور دیگر شعبوں میں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ 2022 میں آئے تھے تو امریکی جامعات میں پاکستانی طلبا کی تعداد سات ہزار تھی۔ اب یہ تعداد دس ہزار سے زیادہ ہے۔ انہوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی تجدید کو بھی اجاگر کیا

مزید پڑھیے  بلاول بھٹو زرداری امریکی دارالحکومت واشنگٹن پہنچ گئے

سفیر پاکستان نے کہا کہ ہم عوام پر مبنی سفارت کاری کے فروغ میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ طلبا، ماہرین تعلیم اور صنعت کاروں اور خاص طور پر ٹیک انٹرپرینیورز کے زیادہ روابط اور تبادلے ہوں۔

پاکستان میں موجود اسی مایہ ناز امریکی کمپنیوں کی موجودگی، جن میں سے زیادہ تر فارچیون 500 پر مشتمل ہیں کا حوا لہ دیتے ہوئے سفیر پاکستان نے امریکی کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ٹیک اسٹارٹ اپ، قابل تجدید توانائی، زراعت اور معدنیات میں سرمایہ کاری میں اضافہ کریں ۔

حالیہ چند قابل ذکر اقدامات ، خاص طور پر گرین الائنس کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر پاکستان مسعود خان نے دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے حوالے سے پاکستان میں امریکی سفیر بلوم کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی کوششوں کو سراہا۔

مسعود خان نے کہا کہ ڈونلڈ بلوم پاک امریکہ تعلقات کو فروغ دینے میں ایک اچھے پارٹنر اور اچھے سفیر رہے ہیں۔

چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات امریکہ کے ساتھ تعلقات کی قیمت پر نہیں ہیں۔

70 کی دہائی کے اوائل میں چین اور امریکا کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں پاکستان کے تاریخی کردار کا ذکر کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ پاکستان موجودہ دور میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی پل کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

مسعود خان نے امریکی حکومت پر زور دیا کہ وہ متوازن انداز اپنائے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی طرف امریکہ کا بھاری جھکا اسٹریٹجک عدم توازن کو بڑھا رہا ہے جو سنگین خطرات کا حامل ہے۔سفیر نے فارن ملٹری فنانسنگ (ایف ایم ایف) اور فارن ملٹری سیلز (ایف ایم ایس) کی مکمل بحالی اور دہشت گردوں کے مسلسل خطرات سے نمٹنے کے لیے معاونت پر بھی زور دیا۔

مزید پڑھیے  ایشیا کپ، پاکستان بھارت ٹاکرے کے روز بارش کا امکان

مسعود خان نے شرکا کو دعوت دی کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں اور ملک کی دلکش خوبصورتی اور پاکستانی قوم کی روایتی مہمان نوازی کا از خود تجربہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 7500 گلیشیئرز ہیں جو قطبی خطے (پولر ریجن) کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔ انہوں نے کہا دنیا بھر میں استعمال ہونے والی فٹ بالوں کا ستر فیصد حصہ پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں تیار کیا جاتا ہے ۔

سفیر پاکستان نے صدر اور سی ای او ورلڈ افیئر کونسل فلاڈیلفیا لارین سوارٹزکا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کی میزبانی کی اور انہیں بات چیت کا موقع فراہم کیا۔

Back to top button