بسم اللہ الرحمن الرحیم

تجارت

ملک کو معاشی دلدل سے نکالنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے،ایس ایم تنویر

سابق نگران صوبائی وزیر اور سرپرست اعلیٰ یونائیٹڈ بزنس گروپ ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ ملک مشکل وقت سے گزر رہا ہے،صنعتیں بند ہو رہی ہیں جبکہ پڑوسی ملک افغانستان اپنے صنعتی اور ٹیکسٹائل کے شعبوں کو فروغ دے کر اپنی معیشت کو مضبوط کر رہا ہے، اگر ہم واقعی موجودہ معاشی دلدل سے نکلنا چاہتے ہیں تو ہمیں قائد کے قول ”کام، کام اور کام“ پر بھرپور طریقے سے عمل کرنا ہوگا۔ ہزارہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے لیکن بری طرح نظر انداز کیا جاتا ہے۔پالیسی سازی میں تمام ریجنز کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ روز ایبٹ آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اینڈ انڈسٹریلسٹ ایسوسی ایشن ایبٹ آباد کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایم۔ تنویر نے مزید کہا کہ ہمیں صنعتی ترقی کے ذریعے معیاری پیداوار پر توجہ دے کر اپنی برآمدات کو بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاحت، معدنیات کے شعبے کو فروغ دے کر اور صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کر کے ہم موجودہ معاشی مسائل سے نکل سکتے ہیں۔

اس موقع پر کانوں کی لیز پر پابندی اور جوائنٹ وینچرز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اور صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کو کمیونٹی کی مشکلات سے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔اپنے خطاب میں سیکرٹری جنرل یونائیٹڈ بزنس گروپ ظفر بختاوری نے کہا کہ ایبٹ آباد کے پی کے کا ایک اہم تجارتی اور ثقافتی مرکز ہے اور یو بی جی اس کی ترقی کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

مزید پڑھیے  مرغی کے گوشت کے ریٹ آسمان پر چڑھ گئے

تقریب سے صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عاطف اکرام شیخ، چیئرمین نیشنل بزنس گروپ میاں زاہد، مرکزی نائب صدر ایف پی سی سی آئی حاجی افتخار احمد، عبدالرشید خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بجلی کے مہنگے بل صنعتوں کی بندش کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اپنے قیمتی اثاثے بیچ کر اور بھاری قرضے حاصل کر کے خوشحالی کی منزل حاصل نہیں کر سکتا اس کی بجائے صنعت پر بھاری ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا اور چھوٹے تاجروں کو مراعات دینا ہی ایک قابل عمل راستہ ہے۔ اس موقع پر آئی سی سی آئی کے سینئر رہنما جاوید کاظمی اور حیدر رضا بھی موجود تھے۔ آخر میں مہمانوں کو شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔

Back to top button