بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 53 کی شق 6، الیکشن ایکٹ کےسیکشن 104 کےتحت فیصلہ سناتے ہوئے مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی سنی اتحاد کونسل کی درخواست کو مسترد کیا ہے۔آج چار ایک کی اکثریت سے جاری 22 صفحات پر مشتمل فیصلے میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ نہیں کی جا سکتی، قانون کی خلاف ورزی اور پارٹی فہرست کی ابتدا میں فراہمی میں ناکامی کے باعث سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں، سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے لیے لسٹ جمع نہیں کرائی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مخصوص نشستیں خالی نہیں رہیں گی، یہ مخصوص متناسب نمائندگی کے طریقے سے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی۔الیکشن کمیشن نے تمام خالی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو الاٹ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن (جو یو آئی ف) کو دینے کی درخواست منظور کی ہے۔چیف الیکشن کمشنر، ممبر سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے اکثریتی فیصلے کی حمایت کی جب کہ ممبر پنجاب بابر بھروانہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔

سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے پر ممبر الیکشن کمیشن آف پاکستان بابر حسن بھروانہ کا اختلافی نوٹ سامنے آگیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے 5 رکنی بینچ میں اختلاف کرنے والے ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے کہا کہ معزز ممبران کے ساتھ اس حد تک اتفاق کرتا ہوں کہ یہ سیٹیں سنی اتحاد کونسل کو الاٹ نہیں کی جاسکتیں، یہ مخصوص نشستیں آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم تک خالی رکھنی چاہئیں۔انہوں نے لکھا کہ میں حتمی فیصلے سے جزوی اتفاق کرتا ہوں، ترجیحی فہرست وقت پر جمع کرانا قانونی ضرورت تھی جو نہیں کرائی گئی۔

اختلافی فیصلے میں کہا گیا کہ متناسب نمائندگی کی بنیاد پر باقی جماعتوں کو نشستوں کی تقسیم پر اختلاف ہے، آئین واضح ہے کہ سیاسی جماعتوں کو جنرل نشستوں کی بنیاد پر مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں، مخصوص نشستیں آئین کے آرٹیکل اکاؤن اور 106 میں ترمیم تک یہ نشستیں خالی تصور کی جائیں گی۔سنی اتحاد کونسل کو قومی اسمبلی میں20خواتین اور 3 اقلیتی نشستوں الاٹ ہونی تھیں۔

Back to top button