بسم اللہ الرحمن الرحیم

بین الاقوامی

بھارتی مسلمانوں کو گھروں، عبادت گاہوں اور دکانوں کی مسمارگی کا سامنا ہے۔ ایمسٹی انٹرنیشنل

اگر آپ بولیں گے تو آپ کا گھر گرادیا جائے گا کے عنوان سے ایمسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ جاری

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمسٹی انٹرنیشنل نے بھارت میں مسلمانوں کے گھروں، کاروباروں اور عبادت گاہوں کی بڑے پیمانہ پر اور غیرقانونی مسماری کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔بھارت میں مسلمانوں کے گھروں، کاروباروں اور عبادت گاہوں کی بڑے پیمانہ پر اور غیرقانونی مسماری پر دوسری رپورٹ بھی جاری کر دی ہے۔

رپورٹ کا عنوان ہے اگر آپ بولیں گے تو آپ کا گھر گرادیا جائے گا، ہندوستان میں جوابدہی بے نقاب، بلڈوزر ناانصافی میں جے سی بی کا رول۔ ان رپورٹس میں کم ازکم پانچ ریاستوں میں برانڈیڈ بلڈوزر JCB کا استعمال کرتے ہوئے اقلیتوں کے خلاف نفرت کی مہم کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ انہدامی کاروائیاں پوری طرح محفوظ و مامون رہتے ہوئے کی گئی ہیں جیسا کہ گزشتہ ماہ ممبئی میں رام مندر ریالی کے دوران تشدد کے بعد میرا روڈ پر کی گئی انہدامی کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل حکومت ہند اور ریاستی حکومتوں سے اپیل کرتی ہے کہ ماورائے عدالت سزا کے طور پر لوگوں کے مکانات منہدم کرنے کی پالیسی کو فوری طور پر روکا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جبری تخلیہ کے نتیجہ میں کوئی بھی بے گھر نہ ہو۔ان انہدامی کارروائیوں سے متاثر ہونے والے تمام افراد کو مناسب معاوضہ بھی دیا جانا چاہئے اور اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ ان خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد کو جوابدہ بنایا جائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سکریٹری جنرل ایگنس کلا مارڈ نے کہا کہ ہندوستانی حکام کی جانب سے مسلمانوں کی جائیدادوں کی غیرقانونی مسماری جسے سیاسی قائدین اور میڈیا بلڈوزر انصاف قرار دیتے ہیں، انتہائی ظالمانہ اور خوفناک ہے۔اس طرح بے گھر کرنا حد درجہ ناانصافی، غیرقانونی اور امتیازی سلوک ہے۔ وہ لوگ خاندانوں کو تباہ کررہے ہیں اور یہ فوری بند ہونا چاہئے۔ سکریٹری جنرل نے کہا کہ حکام نے بار بار قانون کو پسِ پشت ڈال دیا، مکانات، دکانات اور عبادت گاہوں کو نفرت، ہراسانی، تشدد اور جے سی بی بلڈوزرس کو ہتھیار بناتے ہوئے تباہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کو فوری دور کیا جانا چاہئے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بحرانی شہادت لیب اور ڈیجیٹل ویریفیکشن کارپس نے تحقیق کرتے ہوئے پتہ چلایا کہ انہدامی کارروائیوں میں جے سی بی مشینوں کا سب سے زیادہ اور بڑے پیمانہ پر استعمال کیا گیا۔ دائیں بازو کے میڈیا اور سیاسی قائدین کی جانب سے اس مشین کو جہادی کنٹرول بورڈ کا نام دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے  معروف ہندو موٹی ویشنل اسپیکر مسز سبری مالا نے اسلام قبول کرلیا

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک مکتوب کے جواب میں جے سی بی کے ایک ترجمان نے کہا کہ صارفین کو مشین کی فروخت کے بعد ان کے استعمال یا بے جا استعمال پر کمپنی کا کوئی کنٹرول نہیں رہتا۔بہرحال اقوام متحدہ کے تجارت اور انسانی حقوق پر رہنمایانہ اصولوں کے مطابق جے سی بی پر انسانی حقوق کے احترام کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ سکریٹری جنرل ایگنس کلا مارڈ نے کہا کہ بین الاقوامی معیارات کے تحت جے سی بی پر یہ دیکھنے کی ذمہ داری ہے کہ خریدار اس کے آلات کا کس طرح استعمال کرتے ہیں۔کمپنی کو اس بات پر توجہ دینی چاہئے کہ جے سی بی مشینیں مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور سزا دینے کیلئے استعمال کی جارہی ہیں۔ لوگ ان بلڈوزرس پر سوار ہوکر مسلمانوں کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہیں انسانی حقوق کے استحصال کے لئے ان مشینوں کو استعمال کئے جانے پر جے سی بی اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی۔ کمپنی کو چاہئے کہ وہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف تادیبی کارروائیوں اور مسماریوں کے لئے اس کی مشینری کو استعمال کئے جانے کی مذمت کرے۔

Back to top button