بسم اللہ الرحمن الرحیم

جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر: عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں شدت نہتے شہریوں کو بھی ہلاک کیا گیا شہدا کی نعشوں کو ورثا کے حوالے کرنے کی بجائے پولیس ان کے آبائی علاقوں سے دور قبرستانوں میں دفناتی ہے

سرینگر(ساوتھ ایشین وائر )

بھارتی فوج اور دوسرے سرکاری دستوں نے مقبوضہ کشمیر میں سرگرم عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

اس ماہ کے دوران کشمیر کے مختلف علاقوں بالخصوص کولگام، اننت ناگ، شوپیان اور پلوامہ اضلاع اور جموں کے کشتواڑ ضلعے میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف تقریبا ڈیڑھ درجن مرتبہ کارڈن اینڈ سرچ آپریشن کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان دیہات اور علاقوں کو محاصرے میں لینے کے بعد تلاشی کی کارروائی شروع کی گئی، جہاں فوجی دستوں کو عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی یا اس کا شبہ تھا۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ دن کے دوران اس طرح کے آپریشنز میں دس عسکریت پسندوں اور ان کے دو معاونین کو شہید کیا گیا۔ "دہشت گردوں کے معاونین” قرار دیے گیے رشتے داروں نے پولیس حکام کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ’وہ نہتے عام شہری تھے، جنہیں بلا وجہ اور بے دردی کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔

القمرآن لائن کے مطابق بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں حفاظتی دستوں کے ذریعے شہید ہونے والے عسکریت پسندوں کی نعشوں کو اب ان کے رشتے داروں کو سونپنے کے بجائے انہیں پولیس ان کے آبائی علاقوں سے دور ایسے قبرستانوں میں دفناتی ہے جہاں عمومی طور پراس طرح کے واقعات میں شہید ہونے والے غیر شناخت شدہ عسکریت پسندوں کی آخری رسومات ادا کی جاتی تھیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے مقامی عسکریت پسندوں کی نعشوں کو ان کے لواحقین کے حوالے نہ کرنے کا فیصلہ اس لیے لیا گیا تاکہ ان کی تجہیز و تکفین میں لوگ بڑی تعداد میں شریک نہ ہوں، جیسا کہ پولیس کی طرف سے منع کرنے کے باوجود اس ماہ کے شروع میں شمال مغربی ضلع بارہمولہ میں ہوا تھا۔ حکام کا استدلال ہے کہ عسکریت پسندوں کی تدفین میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کرونا وائرس یا کووڈ-19 کے خطرے سے نمٹنے کے لیے وادی کشمیر میں 19 مارچ سے نافذ لاک ڈان کے مقصد کو فوت کرسکتی ہے۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق، ایک اعلی پولیس عہدیدار وجے کمار نے بتایا کہ اگر مارے جانے والے کسی عسکریت پسند کی پہچان کرنے کے لیے اس کے گھر والے آگے آتے ہیں تو ان میں سے چند ایک کو بھی تدفین میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button