
پاکستان میں برین ڈرین ایک سنگین مسئلہ
پاکستان میں بیرون ملک ہجرت ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جو نہ صرف ملک کی معاشی ترقی کو متاثر کر رہا ہے، بلکہ یہاں کے نوجوانوں کی امیدوں اور خوابوں کو بھی تباہ کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے باہر شہریوں کی لمبی قطاریں، جو اپنے وطن کو الوداع کہنے کے لیے ہر روز اس مقام پر جمع ہو رہی ہیں، ایک ایسا منظر پیش کرتی ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت اور فلاحی نظام کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے کے مطابق، 2024 تک 13.53 ملین سے زیادہ شہری 50 سے زائد ممالک میں روزگار کے مواقع کی تلاش میں اپنے وطن کو چھوڑ چکے ہیں، جس سے پاکستان جنوبی ایشیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے جہاں ہجرت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔
"برین ڈرین” کی اصطلاح کا مطلب وہ صورت حال ہے جس میں تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد بہتر مواقع کی تلاش میں اپنے ملک کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اس مسئلے کا سامنا نہ صرف پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو ہو رہا ہے، بلکہ یہ عالمی سطح پر بھی ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ہنر مند افراد کا ملک چھوڑنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان ممالک میں وہ مواقع موجود نہیں ہیں جو ان افراد کی صلاحیتوں اور مہارتوں کے مطابق ہوں۔ اس سے نہ صرف ملک کی معیشت اور ترقی متاثر ہوتی ہے بلکہ یہ ان افراد کی محنت کا ضیاع بھی ہے، جنہوں نے طویل عرصے تک تعلیم اور تربیت حاصل کی۔
پاکستان کی صورتحال اور بھی پیچیدہ ہو جاتی ہے کیونکہ یہاں سیاسی بنیادوں پر غیر مستحق افراد کو ملازمتیں دی جاتی ہیں، جو نہ صرف عوام کے مفادات کے خلاف ہیں بلکہ اس سے ملک کے دیگر ہنر مند افراد کی صلاحیتوں کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ جب قوم کی تقدیر ان افراد کے ہاتھوں میں ہو جو صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے کام کر رہے ہوں، تو ملک میں مایوسی اور عدم استحکام بڑھنا فطری بات ہے۔
پاکستان کے بیورو آف ایمیگریشن کے مطابق، وبائی مرض کے اثرات کم ہونے کے بعد بیرون ملک ہجرت کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ 2023 میں یہ تعداد 862,000 تک پہنچ گئی، جو پچھلے سال کی نسبت زیادہ تھی، اور 2021 کی ہجرت کرنے والوں کی تعداد سے تین گنا زیادہ تھی۔ ان میں زیادہ تر گریجویٹس اور تربیت یافتہ افراد شامل ہیں، جنہوں نے بہتر زندگی اور بہتر مستقبل کی امید میں پاکستان کو چھوڑا۔ ان میں 2500 ڈاکٹرز، 6500 اکاؤنٹنٹس، 5534 انجینئرز، 18,000 ایسوسی ایٹ الیکٹریکل انجینئرز، 2000 کمپیوٹر ماہرین، 2600 زرعی ماہرین، 900 سے زائد اساتذہ اور 12,1600 کمپیوٹر آپریٹر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، غیر ہنر مند کارکنوں میں 213,000 ڈرائیورز بھی شامل ہیں، جو خلیجی ریاستوں میں روزگار کی تلاش میں گئے۔
ہنر مند افراد کی ہجرت سے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے، کیونکہ ان افراد کی تربیت اور تعلیم پر حکومت نے بڑے پیمانے پر سرمایہ خرچ کیا ہوتا ہے۔ تاہم، یہ افراد دوسرے ممالک میں جاکر اپنی مہارت سے وہ فائدہ حاصل کرتے ہیں جو ان کا حق تھا، جس سے پاکستان کی معیشت پر منفی اثر پڑتا ہے۔
ہنر مند افراد کی کمی سے ملک میں تحقیق اور ترقی (R&D) کا شعبہ متاثر ہوتا ہے، جس سے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ یہ ملک کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل نہیں بناتا، اور سائنسی اختراعات میں کمی واقع ہوتی ہے۔
ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ، اور دیگر تعلیم یافتہ افراد کی کمی کے باعث ملک کے تعلیمی اور صحت کے شعبے میں بحران پیدا ہو جاتا ہے۔ جس سے نہ صرف عوامی خدمات متاثر ہوتی ہیں، بلکہ ان شعبوں میں پرفارمنس کی کمی سے لوگوں کا معیار زندگی بھی متاثر ہوتا ہے۔
جب ہنر مند افراد اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں تو اس سے ملکی سطح پر ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ ملک میں نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں مایوسی ہوتی ہے، اور یہ نوجوان طبقہ ملک میں سرمایہ کاری کی کمی اور معاشرتی و اقتصادی عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔
پاکستان کو برین ڈرین کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے لیے معیاری روزگار کے مواقع پیدا کرے تاکہ وہ اپنے ملک میں رہ کر اپنے خاندان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر سکیں۔ ملک میں تحقیق اور ترقی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہوگا تاکہ ہنر مند افراد کو جدید سہولتیں اور وسائل فراہم کیے جا سکیں اور وہ اپنی مہارتیں ملک کے مفاد میں استعمال کر سکیں۔ پاکستان کو سیاسی و معاشی استحکام کی جانب قدم بڑھانا ہوگا تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال ہو اور وہ اپنے ملک میں رہنے کو ترجیح دیں۔ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا اور تعلیم یافتہ افراد کے لیے ایک مثبت ماحول فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ملک میں ہی رہ کر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر سکیں۔












