پاکستان کو عالمی آٹو موٹو صنعت کا مسابقتی مرکز بنانا ہے: ہارون اختر خان

وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو صرف گاڑیاں اسمبل کرنے والا ملک نہیں بلکہ عالمی آٹو موٹو صنعت کا مسابقتی مرکز بنانا ہے۔

لاہور میں چانگان کی نئی پروڈکٹ کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ آج کا آٹو موبائل صرف گاڑی نہیں بلکہ پہیوں پر چلنے والا ایک کمپیوٹر بن چکا ہے، اس لیے پاکستان کو ٹیکنالوجی کے صارف سے ٹیکنالوجی کا پیداواری، انجینئر، جدت کار اور برآمد کنندہ بننا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی ایک اہم آغاز تھا لیکن اسمبلی پاکستان کی آخری منزل نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کو اسمبلی سے مینوفیکچرنگ، مینوفیکچرنگ سے انجینئرنگ اور انجینئرنگ سے جدت کی طرف بڑھنا ہوگا۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان کی صنعتی ترقی کا اگلا مرحلہ مقامی صنعت کو عالمی سپلائی چین کا حصہ بنانا ہے۔ پاکستان میں تیار ہونے والا پرزہ شنگھائی، ٹوکیو، میونخ یا ڈیٹرائٹ کی گاڑی میں استعمال ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آٹو اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 کا مقصد صنعت کو مزید مسابقتی اور مضبوط بنانا ہے۔ الیکٹرک وہیکل انقلاب پاکستان کے لیے ایک بڑا صنعتی موقع ہے، تاہم اسے صرف الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بیٹری، موٹرز، چارجنگ آلات، پاور الیکٹرانکس، آٹو موٹو سافٹ ویئر اور انرجی اسٹوریج میں اپنی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہیں، تاہم پاکستان کو صرف سرمایہ نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ بھی چاہیے۔ پاکستانی انجینئرز کو عالمی کمپنیوں کے انجینئرز کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور انجینئرز کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے گی جبکہ سرمایہ کاری، پیداوار اور برآمدات کے لیے کاروباری ماحول کو آسان بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان کو میڈ اِن پاکستان سے انجینئرڈ اِن پاکستان، ڈیزائنڈ اِن پاکستان اور بالآخر اِن وینٹڈ اِن پاکستان کی طرف بڑھنا ہے۔ حکومت اور صنعت مل کر پاکستان کو عالمی آٹو موٹو ویلیو چین کا اہم حصہ بنائیں گے۔

انہوں نے چانگان اور اس کے پاکستانی شراکت داروں کو پاکستان میں نئی گاڑی متعارف کرانے پر مبارکباد بھی پیش کی۔

↑
Exit mobile version