پاکستان پانی کو ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے گا: عطااللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان امن پر یقین رکھتا ہے، تاہم بھارت کو پانی کو ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ’’Weaponizing Waters: Historical, Legal, and Strategic Dimensions of IWT Suspension‘‘ کے عنوان سے خصوصی رپورٹ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ طور پر ترمیم، تنسیخ، منسوخی یا اسے معطل نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ثالثی کی عدالت نے بھی پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، جس سے اس مؤقف کو تقویت ملی ہے کہ معاہدے میں یکطرفہ تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں۔

عطااللہ تارڑ کے مطابق پاکستان نے اس معاملے کو سفارتی سطح پر اٹھایا ہے اور عالمی برادری کے سامنے اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں سندھ طاس معاہدے کو پاکستان اور خطے کے عوام کے لیے زندگی کی بنیاد قرار دیا تھا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کا سندھ طاس معاہدے سے متعلق مؤقف واضح ہے اور اسے متعدد ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کو ہتھیار بنانے یا سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے تنازع پیدا کرنے کی کوئی بھی کوشش قانونی، سفارتی اور اخلاقی اعتبار سے قابل مذمت اور ناقابل جواز ہے۔

عطااللہ تارڑ نے خبردار کیا کہ کسی ریاست کو قائم شدہ تنازع حل کرنے کے طریقہ کار کے باوجود کسی پابند بین الاقوامی آبی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کی اجازت دینے سے دنیا بھر میں سرحد پار پانی کے انتظام سے متعلق معاہدوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر عالمی برادری سے رابطہ جاری رکھے گا اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے اہم قومی مفادات کا دفاع کرتا رہے گا۔

↑
Exit mobile version