عالمی سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کی گلوبل ریسرچ اینڈ اینالیسس ٹیم نے ‘میراج کِٹن ایڈوانسڈ پرسسٹنٹ تھریٹ گروپ کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ایک ایسے میلویئر سیٹ کا انکشاف کیا ہے، جس کی پہلے کبھی نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔ پاکستان میں ہوابازی سے متعلق ادارے بھی اس سائبر حملے کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہیں۔ ان بدنیتی پر مبنی ٹولز کا استعمال ایک ٹارگٹڈ مہم کے تحت متاثرہ اداروں کے نیٹ ورکس تک طویل المدتی رسائی برقرار رکھنے اور حساس معلومات چوری کرنے کے لیے کیا گیا۔
اس میلویئر سیٹ میں تین خصوصی پروگرام شامل ہیں۔ ان کا بنیادی جزو نائٹ لیڈر نامی ایک نیا دریافت شدہ ونڈوز بیک ڈور ہے، جسے کوڈ اور طرزِ عمل کی مماثلت کی بنیاد پر میراج کِٹن گروپ سے منسوب کیا گیا ہے۔ یہ بیک ڈور حملہ آوروں کو متاثرہ کمپیوٹرز پر مکمل ریموٹ کنٹرول فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے وہ مختلف کمانڈز چلا سکتے ہیں، فائلوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، انہیں منتقل کر سکتے ہیں اور اسکرین شاٹس بھی لے سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ دو خفیہ ٹنلنگ ٹولز، آرک بریج اور بریج ہیڈ بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جو متاثرہ کمپیوٹر کو ایک ریلے نوڈ میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ حملہ آور اپنے سرورز سے ان ٹولز کو چلاتے ہیں جبکہ تمام نیٹ ورک ٹریفک خاموشی سے متاثرہ کمپیوٹر کے ذریعے گزرتی ہے۔
اگرچہ زیادہ تر واقعات میں ابتدائی رسائی کا طریقہ واضح نہیں ہو سکا، تاہم کاسپرسکی کے محققین نے مصر میں متاثرہ اداروں اور پاکستان کے ایک ایرو اسپیس اور ہوابازی کے ادارے میں بریج ہیڈ کو حملے کے بعد کے مرحلے میں استعمال ہوتے دیکھا۔ ان دونوں واقعات میں سائبر حملے سے قبل انتہائی ٹارگٹڈ اسپیئر فِشنگ مہم چلائی گئی، جو اس گروپ کے پہلے سے معلوم طریقہ کار سے مطابقت رکھتی تھی۔ حملہ آوروں نے ملازمت کی پیشکشوں پر مبنی پیغامات کے ذریعے معروف برانڈز اور ہائرنگ پلیٹ فارمز کی نقالی کی، جبکہ جعلی ویڈیو کانفرنسنگ صفحات بھی بنائے گئے جو صارفین کو تیسرے فریق کی فائل شیئرنگ سروسز پر موجود نقصان دہ آرکائیو فائلوں تک لے جاتے تھے۔
کاسپرسکی گلوبل ریسرچ اینڈ اینالیسس ٹیم کے سینئر سیکیورٹی ریسرچر عمر امین نے بتایا کہ ہماری تازہ ترین تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ‘میراج کِٹن مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں ہدفی سائبر جاسوسی کارروائیوں کے لیے اپنے میلویئر ہتھیاروں کو مسلسل جدید بنا رہا ہے۔ اس مہم کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ گروپ اب بھی اپنے آپریشنل ٹول کٹ میں ٹنلنگ یوٹیلیٹیز پر انحصار کر رہا ہے۔ عملی طور پر اس سے حملہ آور نیٹ ورک سیکیورٹی کنٹرولز کو بائی پاس کرنے، متاثرہ ماحول میں خفیہ رسائی برقرار رکھنے اور اپنی سرگرمیوں کو شناخت سے بچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان جدید اور مستقل خطرات کے پیشِ نظر اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی تھریٹ اسیسمنٹ میں ان نتائج کو شامل کریں اور اپنی شناخت و ردعمل کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائیں۔”
اداروں کو چاہیے کہ وہ کیسپرسکی نیکسٹ پروڈکٹ لائن کے ایسے سیکیورٹی حل استعمال کریں جو ریئل ٹائم تحفظ، خطرات کی مکمل نگرانی، تحقیقات اور ای ڈی آر اور ایکس ڈی آر و جیسی جدید ردعمل کی صلاحیتیں فراہم کرتے ہوں، تاکہ ہر حجم اور ہر شعبے کے ادارے مؤثر تحفظ حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ کیسرسکی کی مینیجڈ سیکیورٹی سروسز، جیسے کمپرومائز اسیسمنٹ، انسی ڈنٹ ریسپانس اور مینجیڈ ڈیٹکشن اینڈ ریسپانس سے بھی استفادہ کیا جائے، جو خطرات کی نشاندہی سے لے کر مسلسل تحفظ اور بحالی تک پورے سائبر سیکیورٹی عمل کا احاطہ کرتی ہیں۔ کیسپرسکی یہ بھی تجویز کرتا ہے کہ ادارے اپنے انفارمیشن سیکیورٹی ماہرین کو کیسپرسکی تھریٹ انٹیلی جنس جیسی سہولت فراہم کریں، تاکہ انہیں سائبر خطرات کے بارے میں جامع معلومات اور بروقت تناظر میسر آ سکے، جس سے وہ خطرات کی بروقت شناخت اور مؤثر تدارک کر سکیں۔
