پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو میچوں پر مشتمل سیریز کا دوسرا اور آخری ٹیسٹ اتوار سے کوئنز پارک اوول، پورٹ آف اسپین میں شروع ہوگا، جہاں میزبان ویسٹ انڈیز کو پہلے ٹیسٹ میں 90 رنز کی فتح کے بعد سیریز جیتنے کے لیے مضبوط فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
ویسٹ انڈیز گزشتہ چار برسوں میں پہلی بار مسلسل تین ٹیسٹ میچوں میں ناقابل شکست ہے اور حالیہ عرصے میں سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز جیتنے کے بعد ٹیم کا اعتماد بھی بلند ہے۔ میزبان ٹیم کی مضبوط فاسٹ بولنگ اور تجربہ کار اسپنرز اسے ایک مرتبہ پھر کامیابی کا امیدوار بنا رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بیٹنگ لائن ایک بار پھر دباؤ برداشت نہ کر سکی اور نچلے درجے کے بلے بازوں کی ناکامی ٹیم کی سب سے بڑی کمزوری ثابت ہوئی۔
پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ سے قبل بڑا دھچکا بھی لگا ہے، کیونکہ کپتان شان مسعود انگلی میں فریکچر کے باعث میچ سے باہر ہو گئے ہیں۔ ان کی جگہ عبداللہ شفیق کو ٹاپ آرڈر میں موقع ملنے کا امکان ہے، جبکہ سعود شکیل کی اسکواڈ میں شمولیت سے بیٹنگ لائن کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
عبداللہ شفیق گزشتہ تقریباً تین برس سے مستقل فارم حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کی آخری 31 ٹیسٹ اننگز میں 754 رنز ہیں اور اوسط 25.13 رہی ہے، تاہم انہوں نے اس دوران چند یادگار اننگز بھی کھیلی ہیں، جن میں 2024 میں ملتان ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف سنچری اور گزشتہ سال راولپنڈی میں جنوبی افریقہ کے خلاف نصف سنچری شامل ہے۔ شان مسعود کی عدم موجودگی میں یہ ٹیسٹ عبداللہ شفیق کے لیے ٹیم میں اپنی جگہ مستحکم کرنے کا اہم موقع تصور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ کاغذی لحاظ سے دونوں ٹیموں کی صلاحیتوں میں زیادہ فرق نہیں، تاہم ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹیسٹ میں صبر، نظم و ضبط اور بہتر اعصاب کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی، جبکہ پاکستان فیصلہ کن لمحات میں برتری برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔
ویسٹ انڈیز کے بلے باز ٹیگنرائن چندرپال بھی دوسرے ٹیسٹ میں توجہ کا مرکز ہوں گے، جنہوں نے پہلے ٹیسٹ میں اگرچہ بڑی اننگز نہیں کھیلی، لیکن مشکل حالات میں وکٹ پر ڈٹے رہ کر اپنی ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
دوسرا ٹیسٹ کوئنز پارک اوول میں کھیلا جائے گا، جہاں اسپنرز کو نسبتاً زیادہ مدد ملنے کی توقع ہے، جبکہ موسم کی پیش گوئی کے مطابق بارش کے امکانات کم ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ویسٹ انڈیز کو سال 2000 کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز جیتنے کا موقع حاصل ہے، جبکہ پاکستان اس تاریخی میدان پر اپنی ماضی کی کامیابیوں کو دہرانے اور سیریز برابر کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترے گا۔
