اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امن کے فروغ کا مستقل فریم ورک ہے: ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک مستقل فریم ورک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم او یو پر عمل درآمد کو بعض چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم پاکستان تمام فریقین کی حوصلہ افزائی کرتا رہے گا کہ وہ تشدد کا خاتمہ کریں اور 22 جون کے پاکستان قطر مشترکہ اعلامیے اور ایم او یو کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریق اپنے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے راستے پر کاربند رہیں گے۔

ترجمان نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بالخصوص گلوبل ساؤتھ کے متعدد ممالک اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی توانائی کی فراہمی، تجارت، غذائی تحفظ اور دیگر اقتصادی شعبوں پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنے کی فوری ضرورت کو تسلیم کرتا ہے۔

طاہر اندرابی نے آبنائے ہرمز میں صورتحال کی جلد معمول پر واپسی کی امید ظاہر کرتے ہوئے بحری نقل و حرکت کی مسلسل حفاظت، سلامتی اور آزادی یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدگی اور تنازعات کے دوران پاکستان خطے کے اہم فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور مسئلے کے پرامن حل کی کوششوں کو تقویت دی جا سکے۔

بھارت کی جانب سے آل پارٹیز حریت کانفرنس کی قیادت کے خلاف نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے دائر کیے گئے حالیہ چارج شیٹ سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان نے اسے سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام کشمیری سیاسی قیادت کو نشانہ بنانے اور حق خودارادیت کی جائز جدوجہد کو بدنام کرنے کی بھارتی پالیسی کا تسلسل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر کیے جانے والے مقدمات، ماضی کے واقعات کی تحقیقات یا کشمیری قیادت کو بدنام کرنے کی کوششیں جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتیں اور نہ ہی کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو ختم کر سکتی ہیں۔

طاہر اندرابی نے پہلگام حملے سے پاکستان کو جوڑنے کی بھارتی کوششوں کو بھی بے بنیاد اور سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس واقعے کی آزاد، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کرتا رہا ہے، تاہم بھارت اب تک اپنے الزامات کے حق میں کوئی قابل تصدیق ثبوت پیش نہیں کر سکا۔

ترجمان نے کہا کہ الزامات عائد کرنے کے بجائے بھارت کو اپنے ریکارڈ، بالخصوص مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی پالیسیوں اور اقدامات کا جائزہ لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام صرف بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر کے احترام، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم سے ہی ممکن ہے، نہ کہ الزامات کی سیاست سے۔

Exit mobile version