وزیراعظم کی بینکوں کو ترجیحی شعبوں کے لیے قرضوں میں نمایاں اضافہ کرنے کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ترجیحی شعبوں، بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز)، کو قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں۔

وزیراعظم نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں "ایکسیس ٹو فنانس پلان” کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اہم شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ آسان مالی رسائی سے برآمدات میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ترجیحی شعبوں کو بہتر مالی سہولیات فراہم کرنے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

شہباز شریف نے اعلان کیا کہ وہ خود ہر ماہ "ایکسیس ٹو فنانس پلان” پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مالیاتی خدمات تک رسائی بڑھا کر معیشت کو مزید مضبوط اور برآمدات پر مبنی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم کو منصوبے کے اہداف اور ترجیحات پر بریفنگ دی گئی، جس کا مقصد ملک کو معاشی استحکام سے پائیدار اقتصادی ترقی کی جانب تیزی سے گامزن کرنا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کی اہم ترجیحات میں مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دینا اور انہیں قومی اقتصادی دھارے کا حصہ بنانا شامل ہے۔ منصوبے کا مرکزی ہدف چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، زراعت، برآمدات، قابلِ تجدید توانائی، ہاؤسنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کو کم لاگت قرضوں کی فراہمی بڑھانا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کے نفاذ کے لیے حکومت کے تمام متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں گے، جن میں وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتیں اور دیگر متعلقہ ادارے شامل ہوں گے۔

بریفنگ کے مطابق گورننس ڈھانچے کی سربراہی وفاقی وزیر خزانہ کریں گے، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر شریک چیئرمین ہوں گے۔ نئے گورننس فریم ورک کے تحت باقاعدگی سے اجلاس منعقد ہوں گے اور وزیراعظم کو ہر ماہ پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ آئندہ دو برسوں کے لیے مالیاتی رسائی بڑھانے کے حوالے سے اہم اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جن کے تحت نجی شعبے کے مجموعی قرضوں میں ایس ایم ایز کے حصے کو 7 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد تک لے جانے اور بینکوں سے مالی معاونت حاصل کرنے والے ایس ایم ایز کی تعداد 3 لاکھ 10 ہزار سے بڑھا کر 7 لاکھ 50 ہزار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

Exit mobile version