پاکستان نے کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد افغان ناظم الامور (Chargé d’Affaires) کو دفتر خارجہ اسلام آباد طلب کرکے افغان طالبان حکومت کے سامنے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا اور باضابطہ سخت ڈیمارش (احتجاجی مراسلہ) جاری کیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں بتایا کہ پاکستان نے اسی نوعیت کا احتجاج کابل میں تعینات اپنے سفیر عبید الرحمٰن نظامانی کے ذریعے افغان وزارت خارجہ کو بھی پہنچایا ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ سخت احتجاج اس حقیقت کی بنیاد پر کیا گیا کہ کراچی دہشت گرد حملے میں افغان شہری ملوث تھے، جن میں ایک حملہ آور کو زندہ گرفتار بھی کیا گیا۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ اس واقعے سے ایک بار پھر ثابت ہوا ہے کہ افغان سرزمین اور بعض افغان شہری پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام جاری رکھے گا اور دہشت گردی کے خلاف اپنا مؤقف واضح انداز میں عالمی برادری کے سامنے پیش کرتا رہے گا۔
