آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ عبدالصمد انقلابی کی عمر 65 برس ہے ، ان کی بالوں برفیلی سفید داڑھی اور متقی و پرہیزگار شخصیت ان کی شناخت کا ایک اہم ترین حصہ، وہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور بعد میں اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے بانی و سربراہ وہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے سب سے بڑے اور کٹر حامی تصور کیے جاتے ہیں ۔بالوں میں برفیلی سفیدی اُتر آئی ہے لیکن ان کے ولولے آج بھی مائل بہ پرواز اور حوصلے مصائب سے بے نیاز ہیں۔ وہ صعوبتوں ، مشقتوں اور تکلیفوں کی پروا کئے بغیر مسلسل آزادی کی کٹھن راہوں پر اس شان سے چلے جارہے ہیں کہ بھارتی حکمرانوں کاکوئی بھی ظلم ان کے پائے استقلال میں لغزش پیدا نہیں کرسکا۔سینئر حریت رہنما عبدالصمد انقلابی کا جوانی بھارتی زندانوں نے چھین لیا ، جوانی بھارتی زندانوں کی نذر ہوگئی۔وہ مجموعی طور زندگی کے 30 برس سے زائد پس دیوار زنداں گزار چکے ہیں اور اب بھی پسِ دیوار زنداں ہیں۔ طویل عرصہ زندانوں میں گزارنے والے عبدالصمد انقلابی کا حوصلہ بھارتی حکمران نہیں توڑ سکے۔
جب ایک شخص شادی شدہ ہو اور اس کے بچے بھی ہوں تو اس کیلئے گھر بے حد ضروری ہوتا ہے۔ عبدالصمد انقلابی شادی شدہ ہیں۔ وہ جوان بیٹی کا باپ ہے بیٹا کوئی نہیں۔۔۔خود بوڑھے اور پابند سلاسل ہیں۔ ایسے شخص کیلئے ٹھکانے کا ہونا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ لیکن بھارتی حکمرانوں نے جوان بیٹی کے باپ کو جیل میں ڈال رکھا ہے اس سارے ظلم و ستم کا مقصد عبدالصمد انقلابی جیسے کوہ گراں کو ذہنی اذیت دینا اور جھکانا ہے۔ یوں تو آل پارٹیز حریت کانفرنس کے تمام قائدین کوہ گراں اوربھارتی عزائم کے راستے میں سیسہ پلائی دیوار ہیں۔تاہم آل پارٹیز کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ عبدالصمد انقلابی ان سب سے منفرد ہیں، وہ جرأت وبہادری کااستعارہ ہیں۔انھوں نے جرأت وبہادری کی بدولت کشمیری قوم کے سر فخر سے بلند کردیے ہیں ، انھیں بھارتی استعمار کے خلاف آواز اٹھانے اور اپنی قوم کے دل ودماغ میں آزادی کی شمع روشن کرنے کی پاداش میں سب سے زیادہ پابند سلاسل کیا جاتا اورطویل قید کاٹنے، تنگ و تاریک کال کوٹھڑیوں میں محبوس رہنے،بدترین تشدد سے گزرنا پڑتا عبدالصمد انقلابی اگرچہ زندان میں محبوس ہیں لیکن وہ زندان سے بھی بھارتی حکمرانوں کوللکاررہے ، ان کی سازشوں کو بے نقاب کررہے اورقوم کی رہنمائی کررہے ہیں۔اس کا ثبوت ان کے پیغام ہے جو وہ جیل سے اپنی قوم کے نام جاری کیا کرتے تھے اپنے پیغام میں کہا تھا ’’ کشمیری عوام بالخصوص مزاحمتی قیادت پر لازم ہے کہ وہ تاریخ کے اس نازک مرحلے پر اتحاد و اتفاق کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھے تاکہ مادروطن پر بھارتی استعمار کی یلغار کو ناکام اور کاروان ِ جدوجہد آزاد ی جس کے لیے لاکھوں کشمیریوں نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔ آج جبکہ بھارت کی ہندو توا سرکار کشمیریوں کے سیاسی ، تاریخی اور مذہبی تشخص کو مٹانے کے در پے ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری کشمیری قوم اور تمام تر سیاسی قیادت یک آواز ہو کر اس بہیمانہ سازش کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائے۔بھارت سرکار کی جانب سے 5 اگست2019ء کے اقدامات کے بعد جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال خطرناک حد تک بگڑچکی ہے۔
بھارت کے یہ اقدامات اقوام متحدہ کی قرارددوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں جبکہ اگست کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب ہے جسے کشمیری قوم کبھی فراموش نہیں کرسکتی ۔ کشمیری عوام کی جدوجہد بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے اور حصول حق خودارادیت کے لیے ہے جس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کسی قسم کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیری قوم کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور کشمیری قوم آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوگی۔ دنیا کی سبھی قوموں نے جابرانہ تسلط سے گلو خلاصی کے لیے عظیم قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے اور اسی نقش قدم پر چل کر محکوم قوموں نے غلامی اور جابرانہ تسلط سے نجات حاصل کی ہے۔ رات چاہے کتنی ہی تاریک اور طویل ہو صبح اس کا مقدرضرور ہوتی ہے۔ ایسے ہی آزادی کشمیر یوں کا مقد رہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیری قوم عزم مسلسل کے سہارے اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھے‘‘
یہ ہے عبدالصمد انقلابی کا اسیری کے دوران جیل سے اپنی قوم کے نام پیغام۔ اس پیغام سے سمجھا جاسکتا ہے عبدالصمد انقلابی جیل کاٹنے کے باوجود آج بھی آزادی کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کااعلان کررہا ہے اس قوم کو بھارت ہر گز شکست نہیں دے سکتا ہے۔
محبوس سینئر حریت رہنما عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ تحریک ازادی کشمیر کے عظیم رہنما شہید سید علی شاہ گیلانی کا مشہور نعرہ ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے“ کشمیری عوام کے لیے مشعلِ راہ ہے.انکا کہنا ہے کہ شہید سید علی شاہ گیلانی کا یہ تاریخی نعرہ کشمیر کی تحریکِ آزادی کے متوالوں کے دلوں میں ایک نئی روح پھونک یہ نعرہ جموں کشمیر کے عوام کی پاکستان کے ساتھ گہری نظریاتی، دینی اور جغرافیائی وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے. بھارتی جیلوں میں نظر بندی اور سخت ترین حالات کے باوجود حریت رہنما عبدالصمد انقلابی اور دیگر کشمیری قائدین شہید سید علی شاہ گیلانی کے اسی فلسفے اور نعرے کو اپنی جدوجہدِ آزادی کا بنیادی مرکز مانتے ہیں.
” اسلام کے تعلق سے اور اسلام کی نسبت سے اور اسلام کی محبت سے ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ ”
محبوس سینئر حریت رہنما عبدالصمد انقلابی کا کہنا ہے کہ یہ زور دار آواز شہید سید علی شاہ گیلانی ہی کی ہو سکتی تھی۔ یہ وہی تھے جنھوں نے کشمیری قوم کو حق خود ارادیت کا سبق سکھایا۔

