سانحہ کربلا محض واقعہ نہیں بلکہ ظلم کے سامنے ڈٹ جانے، اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کا استعارہ ہے، عبدالصمد انقلابی

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے سربراہ پیر عبدالصمد انقلابی کا یہ بیان پلوامہ کی جیل سے جاری اپنے ایک پیغام میں کہا کہ حق و صداقت کی وہ ابدی گواہی ہے جو جبر اور استبداد کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ سانحہ کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ظلم کے سامنے ڈٹ جانے اور اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کا استعارہ ہے۔سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسی فلسفے کے تحت کشمیری عوام کے حقوق اور الحاقِ پاکستان کی تحریک میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے گزارتے۔ ان کا ماننا ہے کہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کے دوران کشمیریوں کو پیش آنے والی مشکلات دراصل کربلا کی یاد تازہ کرتی ہیں۔کربلا اور تحریکِ حریتِ کشمیر کا فلسفہ بنیادی طور پر کربلا میں نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ اور کشمیر میں حریت پسندوں کی جدوجہد کا بنیادی مقصد ناانصافی اور جبری قبضے کے سامنے سر نہ جھکانا ہے۔ میدانِ کربلا میں اہل بیتؑ کی جانب سے دکھایا گیا صبر کشمیری عوام کے طویل عرصے سے جاری پرامن احتجاج اور استقامت کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے حق کی خاطر جان اور مال کی عظیم ترین قربانی دے کر صبر کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی۔ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہر مسلمان کا مذہبی اور اخلاقی فریضہ ہے، اسی نظریے کو سینئر حریت رہنما پیر عبدالصمد انقلابی نے زندگی بھر کشمیر کی وادی میں اجاگر کیا۔
شعبہ نشرواشاعت اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر

Exit mobile version