وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان خوراک کے تحفظ، زرعی جدیدکاری اور معاشی ترقی کے شعبوں میں کینیڈا کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔
یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں زراعت، لائیو اسٹاک، زرعی کاروبار میں سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون کے فروغ کے مختلف امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کینیڈا کی جانب سے پائیدار زراعت، لائیو اسٹاک مینجمنٹ، غذائی پیداوار اور زرعی جدت کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا پاکستان کے اہم ترین زرعی شراکت داروں میں شامل ہے۔
رانا تنویر حسین نے بتایا کہ پاکستان ہر سال خوردنی تیل کی درآمد پر تقریباً 4 سے 5 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے اور حکومت مقامی سطح پر تیل دار اجناس کی پیداوار بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات، جن میں آم، چاول، کینو، کھجوریں اور حلال گوشت شامل ہیں، برآمد کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
وفاقی وزیر نے ہائبرڈ بیجوں کی تحقیق، مویشیوں کی نسلوں میں بہتری، ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی، جانوروں کی خوراک کی تیاری، زرعی مشینری، ڈیری اور گوشت کی پروسیسنگ، پیکیجنگ ٹیکنالوجی اور زرعی ویلیو چینز کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
انہوں نے صلاحیت سازی، جانوروں کی صحت سے متعلق معلوماتی نظام، درآمدی خطرات کے جائزے اور بیماریوں کے کنٹرول پروگرامز کے لیے کینیڈا سے تکنیکی معاونت کی بھی درخواست کی۔
اس موقع پر کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان نے زراعت اور زرعی کاروبار کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
