پاکستان اور برطانیہ نے پائیدار اقتصادی ترقی، ادارہ جاتی بہتری اور علاقائی استحکام کے فروغ کیلئے دوطرفہ قریبی تعاون اور روابط کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ اتفاق رائے آج اسلام آباد میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور برطانوی پارلیمانی انڈر سیکریٹری برائے مشرق وسطیٰ، افغانستان اور پاکستان، ہمیش فالکنر (Hamish Falconer) کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آیا۔
ملاقات میں علاقائی صورتحال، پاکستان کے معاشی منظرنامے، جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات، مالیاتی ترجیحات، ادارہ جاتی جدت اور پاکـبرطانیہ اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیرخزانہ نے برطانوی وفد کو حکومت کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے اور وفاقی بجٹ 27-2026 ء میں متعین اہم ترجیحات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت معاشی استحکام برقرار رکھنے، اقتصادی بحالی کے عمل کو آگے بڑھانے، ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں تیزی لانے اور جامع و پائیدار ترقی کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔
گفتگو کے دوران وزیرِ خزانہ نے حالیہ علاقائی پیشرفت کا بھی ذکر کیا، جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی بھی شامل ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے کی بہتر ہوتی صورتحال سے معاشی استحکام، سرمایہ کاری، تجارت اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کیلئے زیادہ سازگار ماحول فراہم پیدا ہوگا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اپنی اقتصادی منصوبہ بندی اور مالیاتی تخمینوں میں ممکنہ بیرونی اور جغرافیائی سیاسی خطرات کو مدنظر رکھا، جن میں علاقائی غیر یقینی صورتحال کے ممکنہ بالواسطہ معاشی اثرات بھی شامل تھے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے وفد کو پاکستان میں جاری مالیاتی اور ادارہ جاتی اصلاحات سے بھی آگاہ کیا۔
اپنے ریمارکس میں، برطانوی وزیر ہیمش فالکنر نے اقتصادی اصلاحات کیلئے حکومت پاکستان کے عزم کو سراہا اور پاکستان کے جاری اصلاحاتی و تبدیلی کے ایجنڈے کی وسعت اور سنجیدگی کو تسلیم کیا۔
انہوں نے باہمی اقتصادی مفادات کے شعبوں میں برطانیہ کی جانب سے مسلسل تعاون اور روابط جاری رکھنے میں دلچسپی کا بھی اعادہ کیا۔
ملاقات میں پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ (Jane Marriott)کے علاوہ برطانوی ہائی کمیشن اور فنانس ڈویژن کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
