پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کی عبوری کمیٹی کا حافظ عمران بٹ کو پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سے فوری ہٹانے کا مطالبہ

 پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن (PWLF) کی عبوری کمیٹی نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (POA) سے مطالبہ کیا ہے کہ سابق صدر پی ڈبلیو ایل ایف حافظ عمران بٹ کو نمائندہ اولمپک اسپورٹس، فنانس کمیٹی کے رکن اور معطل شدہ فیڈریشن کے چیف کوآرڈینیٹر کے عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کو لکھے گئے خط میں عبوری کمیٹی کے چیئرمین زاہد اقبال نے کہا کہ کورٹ آف آربیٹریشن فار اسپورٹس (CAS) نے حال ہی میں حافظ عمران بٹ پر تاحیات پابندی عائد کی ہے، جبکہ انٹرنیشنل ویٹ لفٹنگ فیڈریشن (IWF) کے انڈیپنڈنٹ ممبرز فیڈریشن سینکشننگ پینل (IMFSP) نے بھی آرٹیکل 12.3.2 کے تحت پی ڈبلیو ایل ایف پر ایک سال کی معطلی (20 جون 2025 سے 19 جون 2026 تک) عائد کر رکھی ہے، جس میں CAS کے فیصلے کی روشنی میں مزید توسیع بھی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) پہلے ہی 6 جولائی 2022 کو اس فیڈریشن کو معطل کر چکا ہے اور 30 جولائی 2025 کو جاری کردہ پبلک ڈسکلیمر کے ذریعے اپنے فیصلے کو دہرا چکا ہے۔ پی ایس بی نے اینٹی ڈوپنگ رولز کی خلاف ورزی (ADRV) کے باعث حافظ عمران بٹ اور ان کے بیٹے پر بھی 4 سال کی پابندی عائد کی ہے (خط نمبر F.7-40/2020-PSB (NF) مؤرخہ 3 نومبر 2025)۔

خط میں کہا گیا ہے کہ یہ تشویشناک امر ہے کہ حافظ عمران بٹ کی جانب سے یکم فروری 2025 کو قبل از وقت انتخابات کے ذریعے بنائی گئی معطل شدہ پی ڈبلیو ایل ایف (جس کے صدر ان کے بھتیجے جبران ہیں) ملک میں ویٹ لفٹنگ میں منظم ڈوپنگ کی سرپرستی کر رہی ہے۔

چیئرمین عبوری کمیٹی کے مطابق CAS، IWF، PSB اور ADOP کی جانب سے پابندی کا سامنا کرنے والے عہدیداران، کوچز اور کھلاڑی بدستور ویٹ لفٹنگ کے امور چلا رہے ہیں اور بغیر کسی رکاوٹ کے ایونٹس کا انعقاد کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ پی او اے کے پورٹل پر حافظ عمران بٹ اب بھی نمائندہ اولمپک اسپورٹس اور فنانس کمیٹی کے رکن کے طور پر درج ہیں، حالانکہ اینٹی ڈوپنگ رولز کی خلاف ورزی پر پابندی کا شکار کوئی بھی فرد کسی بھی حیثیت میں کسی کھیل کی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتا، جیسا کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (IOC)، IWF اور ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (WADA) کی پالیسیوں میں واضح کیا گیا ہے۔

آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ حافظ عمران بٹ کو فوری طور پر ان عہدوں سے ہٹایا جائے اور اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے تاکہ پی او اے اپنے فرائض پورے کرتے ہوئے IOC چارٹر اور متعلقہ اینٹی ڈوپنگ قوانین پر عملدرآمد یقینی بنا سکے۔

Exit mobile version