عالمی برادری کی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے پر پاکستان کے کردار کی تعریف

عالمی برادری نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا۔

اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوترس نے دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ تنازع میں تمام فریقین سے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور جنگ بندی کی شرائط پر عمل درآمد کی اپیل کی، تاکہ خطے میں پائیدار اور جامع امن کی راہ ہموار ہو۔

ملیشیا کے وزیرِ اعظم انوار ابراہیم نے مذاکرات کے عمل میں نیک نیتی اور مسئلے کے پائیدار حل کے عزم پر اعتماد ظاہر کیا اور پاکستان اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی بے مثال سفارتکاری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے جنگ بندی کو سراہا اور پاکستان کے ثالثی کردار کے لیے شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ دنوں میں ہدف یہ ہونا چاہیے کہ مذاکرات کے ذریعے جنگ کا دائمی خاتمہ ممکن بنایا جائے۔

انڈونیشیا نے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور ایران و امریکہ سے ہر فریق کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سفارتکاری کا احترام کرنے کی اپیل کی۔

آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البنیز اور وزیرِ خارجہ پینی وونگ نے مشترکہ بیان میں جنگ بندی کی خوش خبری دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاہدہ طویل مدتی حل کی طرف لے جائے گا۔

مصر کے وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ جنگ بندی مذاکرات، سفارتکاری اور تعمیری مکالمے کے لیے ایک اہم موقع ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، تاہم کہا کہ مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

قازقستان کے صدر قسیم جومارٹ توکایف نے خطے میں مکمل جنگ بندی کے معاہدے کی تعریف کی، جو وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی سے ممکن ہوا۔

عمان کے وزارتِ خارجہ نے بھی اس اعلان کا خیرمقدم کیا اور پاکستان اور تمام فریقین کی کوششوں کو سراہا۔

جاپان کے چیف کیبنٹ سیکریٹری مِنورو کیہارا نے دو ہفتے کی جنگ بندی کو مثبت اقدام قرار دیا اور کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اولین ترجیح ہے۔

برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میراٹ نے پاکستان کے خاموش، مؤثر اور سفارتی کردار کو سراہا جس کی بدولت یہ اہم جنگ بندی ممکن ہوئی۔

Exit mobile version