وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ حکومت آزمائش کے اس وقت میں عوام کو سہولت فراہم کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار آج لاہور میں حالیہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات پر حکومت کی سبسڈیز پر عملدرآمد پر ہونے والی پیشرفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کرایوں میں اضافہ روکنے کیلئے مسافر بسوں کو ماہانہ ایک لاکھ روپے جبکہ منی بسوں اور وینز کو چالیس ہزار روپے اعانت فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کھانے پینے کی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے میں مدد کیلئے ٹرکوں کو ماہانہ ستر ہزار روپے، بڑے سامان کی گاڑیوں کو اسی ہزار روپے اور ڈیلیوری وینز کوپینتیس ہزار روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ڈیجیٹل والیٹس کے ذریعے سبسڈی دی جا رہی ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے قومی پیکیج کیلئے مختص فنڈز جمع کرا دیئے ہیں اور اُمید ظاہر کی کہ دیگر صوبے بھی اس کی فوری پیروی کریں گے۔
وزیراعظم نے روشنی ڈالی کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ایک سو انتیس ارب روپے کا عوامی ریلیف پیکج فراہم کیا گیا ہے۔ مزید برآں، پٹرولیم لیوی میں اسی روپے فی لیٹر کمی کرکے عوام کو فوری ریلیف دیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان ریلوے چھ ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر رہا ہے مسافر اور گڈز ٹرینوں کے کرایوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہو رہا۔ مزید یہ کہ حال ہی میں ٹول ٹیکس میں پچیس فیصد سہ ماہی اضافے کا اعلان واپس لے لیا گیا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک بھر میں ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں۔
اجلاس میں حکومتی کفایت شعاری کے اقدامات پر انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
