امریکہ میں قائم امریکی کانگریشنل پاکستان کاکس نے کیپیٹل ہل میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر ایک تاریخی سمپوزیم کا انعقاد کیا، جس میں دونوں ممالک کے ماضی، حال اور مستقبل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔سمپوزیم کے دوران سیکیورٹی اور اقتصادی تعلقات پر خصوصی نشستیں بھی منعقد ہوئیں، جن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ماہرین، تھنک ٹینکس سے وابستہ شخصیات، سابق سفرا اور سیکیورٹی و معیشت کے ماہرین نے شرکت کر کے اپنی آراء پیش کیں۔
جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے امریکی معاون وزیر خارجہ پال کپور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مثبت پیش رفت ہوئی، جس سے معدنیات سمیت اقتصادی شعبوں میں باہمی فائدہ مند شراکت داری کو فروغ ملا۔امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان–امریکہ شراکت داری نہ صرف تاریخی اہمیت کی حامل ہے بلکہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی انتہائی مؤثر رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ دنیا کی بڑی آبادیوں کے حامل ان دونوں ممالک کے درمیان تعاون محض ایک انتخاب نہیں بلکہ موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے۔سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کردار ادا کیا ہے اور علاقائی و عالمی امن کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی امن کے قیام کے لیے اپنا بھرپور کردار جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان–امریکہ تعلقات تاریخی طور پر اہم، امن و سلامتی کے لیے سودمند قرار
