بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں چارٹر پر مبنی عالمی نظام کے عزم کا اعادہ

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر مبنی قوانین پر مبنی بین الاقوامی نظام کے لیے عزم کا اعادہ کیا ہے، جس میں تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جاتا ہے۔یہ بات پاکستان کے مستقل نمائندے برائے اقوامِ متحدہ عاصم افتخار احمد نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہائی لیول اوپن ڈیبیٹ میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ چارٹر کے دائرے سے باہر یکطرفہ اقدامات کو معمول بنانے کی کوششیں اجتماعی سیکیورٹی کو کمزور کرتی ہیں اور کثیرالجہتی اداروں کی ساکھ متاثر کرتی ہیں۔
عاصم افتخار نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کو موثر میکانزم تیار کرنا چاہیے تاکہ اپنے فیصلوں کی نگرانی کی جا سکے اور مستقل طور پر ان پر عمل نہ ہونے کی صورت میں فوری اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت سے مسلسل انکار انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سبب بن رہا ہے اور دیرپا امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے انڈس واٹرز ٹریٹی کو یکطرفہ معطل کرنے کو بین الاقوامی فرائض کی واضح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں اور معیشت کے لیے خطرہ ہے اور امن و سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔عاصم افتخار نے پانی اور دیگر قدرتی وسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی سختی سے مذمت کی اور کہا کہ معاہدوں کی پاسداری بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیاد ہے۔

اشتہار
Back to top button