برٹش ہائی کمیشن پاکستان، سلامتی، انصاف اور ملکی استحکام میں خواتین کے مرکزی کردار کا معترف


برٹش ہائی کمیشن پاکستان کی جانب سے خواتین سے متعلق قومی کانفرنس کا انعقاد اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ خواتین تمام طبقات کی موثر سلامتی کو یقینی بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی میں خواتین کے بنیادی کردار پر یہ قومی کانفرنس نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا)، گلوبل افیئرز کینیڈا کے اشتراک اور اقوامِ متحدہ دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ یہ کانفرنس ہمارے اس  یقین کا عملی اظہار ہے کہ پاکستان بھر میں خواتین انسدادِ دہشت گردی پالیسی کی تشکیل، اداروں کے استحکام اور کمیونٹی سطح پر موثر نتائج کے حصول میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

کانفرنس کے موقع پر اپنے افتتاحی کلمات میں برطانوی ہائی کمشنر محترمہ جین میریٹ نے کہا کہ  برطانیہ ان خواتین کی حمایت کے لئے پرعزم ہے جو سماجی تحفظ کے حکومتی اقدامات کو مستحکم بنانے میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں اور پرتشدد انتہاپسندی اور دہشت گردی روکنے کی کوششوں میں پیش پیش ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم خواتین کی انصاف تک رسائی بہتر بنانے، متاثرہ خواتین کو بہتر معاونت فراہم کرنے کے اقدامات اور منصوبوں میں بھی تعاون کر رہے ہیں اور سماجی استحکام کے لئے سرگرم خواتین کی زیرقیادت تنظیموں کو بااختیار بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔

نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر جناب جواد احمد ڈوگر، کینیڈا کے ہائی کمشنر جناب طارق علی خان اور نمائندہ یو این او ڈی سی جناب ٹروئلز ویسٹر نے صنفی تقاضوں سے ہم آہنگ سکیورٹی فریم ورکس کے فروغ میں بین الاقوامی تعاون اور حکومتی قیادت کی اہمیت پر زور دیا۔

نمائندہ یو این او ڈی سی جناب ٹروئلز ویسٹر نے اس سلسلے میں جاری سرگرمیوں کی پیشرفت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ پاکستان بھر میں نفاذِ قانون، مالیاتی شعبے کی نگرانی اور نظامِ انصاف کے اداروں میں قائدانہ عہدوں پر خدمات انجام دینے والی خواتین میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو تحقیقات، قواعد کی پاسداری اور دہشت گردی کے لئے سرمایہ کی فراہمی روکنے  کی سرگرمیوں میں براہِ راست کردار ادا کر رہی ہیں۔ نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر جناب جواد احمد ڈوگر نے کہا کہ ریڈیکلائزیشن کی روک تھام اور سماجی استحکام میں بہتری لانے کے لئے خواتین کے نقطہ نظر کو انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیوں اور عملی سرگرمیوں کا حصہ بنانا ضروری ہے۔

کانفرنس میں سینئر پالیسی سازوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قیادت، مالیاتی شعبے کے ریگولیٹرز، بین الاقوامی پارٹنرز  اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات نے حصہ لیا جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ انصاف، سلامتی اور بچاؤ و روک تھام جیسے شعبوں میں خواتین کی موجودگی سے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ  قومی سلامتی یقینی بنانے کی کوششوں میں خواتین  اب محض خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کرتیں بلکہ اب وہ اداروں کی افادیت، جمہوری احتساب اور شہریوں کا اعتماد بہتر بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔

نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن (این سی ایس ڈبلیو) کی سیکرٹری محترمہ حمیرا مفتی نے قومی پالیسی کے تناظر میں بتایا کہ سلامتی اور روک تھام کی سرگرمیوں میں خواتین کی شمولیت سے سماجی استحکام اور حقوق کے تحفظ میں دوررس بنیاد پر بہتری آتی ہے۔

سلامتی کے شعبے میں قیادت کے نئے رجحانات پر پینل گفتگومیں پولیس اور صوبائی انتظامیہ سے تعلق رکھنے والی سینئر خواتین افسران نے حصہ لیا۔ آپریشنل سرگرمیوں کے دوران پیش آنے والے تجربات سے شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خواتین کی قیادت سے تحقیقاتی عمل میں بہتری آتی ہے، لوگوں کی شمولیت مستحکم ہوتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر لوگوں کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔

برطانوی ہائی کمیشن میں انسدادِ دہشت گردی پولیس کی رابطہ افسر محترمہ کیٹ ولسن اور یو این او ڈی سی ویانا کی محترمہ کیٹ فٹزپیٹرک نے عالمی سطح پر اپنائے جانے والے عمدہ طریقوں پر روشنی ڈالی جن کے تحت انسدادِ دہشت گردی کے لئے تمام طبقات کی شمولیت پر مبنی سوچ اپنانے سے قابل ذکر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ پنجاب پولیس سے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس محترمہ عائشہ بٹ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس محترمہ بینش فاطمہ نے کہا کہ پولیس کی فیلڈ سرگرمیوں میں عزت ووقار کو مرکزی حیثیت دینے سے لوگوں کے ساتھ تعلقات میں نمایاں بہتری آتی ہے۔

ایک اور سیشن کے دوران نئی ٹیکنالوجیز اور مالیاتی شعبے کی نگرانی میں نمایاں کردار ادا کرنے والی خواتین پر گفتگو کی گئی جس کے دوران فنانشل انٹیلی جنس یونٹس، ریگولیٹری اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نجی شعبے کے ماہرین نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لئے سرمائے کی فراہمی روکنے سے متعلق قواعد کی پاسداری، مالیاتی شعبے کی نگرانی اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو سرمایہ کی فراہمی روکنے کے لئے بروقت خبردار کرنے والے نظاموں کو مستحکم بنانے میں خواتین کے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔  گفتگو کے دوران سول سوسائٹی اور شعبہ تدریس کے ماہرین نے بتایا کہ خواتین کی زیرقیادت سماجی سرگرمیاں اور تنظیمیں انتہاپسندی کے محرکین پر قابو پانے، سماجی یکجہتی کو مستحکم بنانے اور آبادی کے کمزور طبقات کی مدد کے لئے ریاستی اقدامات کو موثر بنانے میں مدد دے رہی ہیں۔

کانفرنس کے اختتام پر تمام شرکاء نے اپنے اس مشترکہ عزم کا اظہار کیا کہ پرتشدد انتہاپسندی کے خاتمہ کے لئے صوبائی سطح پر قائم سنٹرز آف ایکسیلنس کی سرگرمیوں کو صنفی نقطہ نظر سے ڈھالا جائے گا اور مختلف اداروں اور شعبوں کے درمیان باہمی اشتراک، رہنمائی اور مہارتیں بہتر بنانے کی سرگرمیاں مستحکم بنانے کے لئے "ویمن اِن سکیورٹی اینڈ کاؤنٹر ٹیررازم نیٹ ورک” کے قیام سے متعلق سرگرمیوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔

Exit mobile version