ملک بھر میں گمشدہ بچوں کی تلاش کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے روشنی ہیلپ لائن1138 نے ملک بھر سے لاپتہ ہونے والے بچوں کے اعداد و شمار جاری کردیئے۔ رپورٹ کے مطابق روشنی ہیلپ لائن کو پاکستان بھر سے مختلف ذرائع سے3808گمشدہ بچوں کے واقعات رپورٹ ہوئے، رپورٹ ہونے والے گمشدہ بچوں کے 3808 واقعات میں سے 3400 بچے کامیابی کے ساتھ تلاش کر کے والدین کے سپرد کیئے جا چکے ہیں، تاحال ابھی پاکستان بھر میں 408 بچے لاپتہ ہیں جنکی تلاش کا عمل جاری ہے۔
روشنی ہیلپ لائن1138 کے سربراہ محمد علی صاحب نے ریسرچ سیل کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ہمیں مختلف ذرائع سے گمشدہ بچوں کے واقعات رپورٹ کرائے جاتے ہیں ، گزشتہ سال 2025 میں ملک بھر سے سب سے زیادہ پولیس ، روشنی ہیلپ لائن کے رضاکاروں، سوشل میڈیا، اور روشنی ہیلپ لائن نمبر 1138سے رپورٹ ہوئے جس کے ذریعے ہم گمشدہ بچوں کے ا عدادوشمار جاری کرتے ہیں۔
رپورٹ میں ملک بھر کے صوبائی تجزیئے کے مطابق:
(1)صوبہ سندھ سے1727 بچے ۔ (2)صوبہ پنجاب سے1378 بچے ۔
(3)صوبہ خیبر پختونخواہ : سے390 بچے ۔ (4)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے38 بچے۔
(5) صوبہ بلوچستان سے 174 بچے ۔ (6)آزاد جموں و کشمیر سے98 بچے ۔
(7) گلگت بلتستان سے3 بچوں کے کیسز رپورٹ ہوئے۔
روشنی ہیلپ لائن کی ریسرچ سیل کی تجزیاتی رپورٹ میں جنس کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گمشدگی کے حوالے سے لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کے گمشدگی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ایک لمحہ فکریہ ہے، گزشتہ سال 2025 میں 2858 لڑکے اور 950 لڑکیاں لاپتہ ہوئیں جنکا جب عمر کے حساب سے تجزیہ کیا گیا تو
(1) 0سے5 سال تک کے 534 ، (2) 6سے10 سال تک کے 756 ، (3) 11سے15 سال تک کے 1920
اور 16سے18سال تک کی عمر کے 598 بچے شامل ہیں۔
ملک بھر سے لاپتہ ہونے والے بچوں میں سب سے زیادہ11 سے 15 سال کی عمر کے بچے تھے جن کی تعداد1920 تھی جو مختلف وجوہات کی بنا پر گھر سے نکلے تھے۔
روشنی ہیلپ لائن 1138 گزشتہ سالوں کی طرح سن 2025 میں بھی اپنی روایات کو جاری رکھتے ہوئے پورے پاکستان میں گمشدہ بچوں کے حوالے سے کی جانے والی قانون سازی پر ملک بھر کے پولیس افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرنے کیلئے جو ماہرین کی موجودگی میں ٹریننگ سیشن کا انعقاد کرتی چلی آرہی ہے، اس حوالے سے سن 2025 ء میں بھی پورے پاکستان کے 350سے زائد پولیس افسران کو زارا ایکٹ کے حوالے سے ٹریننگ دی اور گمشدہ بچوں کے کیسز سے نمٹنے کے بارے میں بھی بتایا۔محمد علی صاحب نے روشنی ہیلپ لائن کی جانب سے گزشتہ
سال سن 2025 میں پولیس افسران کے حوالے سے اُٹھائے جانے والے ایک اہم اقدام کی جانب مرکوز کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے سندھ میں پولیس افسران کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے بھی بیسٹ پر فامنس ایوارڈ کی 3 تقاریب کا انعقاد کیا جس میں 122پولیس افسران کو گمشدہ بچوں کی تلاش وبازیابی میں نمایاں کارکردگی دکھانے پر ایوارڈ دیا گیا۔
ادارے کے سربراہ محمد علی صاحب نے گزشتہ چند سالوں سے ملک بھر میں بچوں کے جنسی استحصال ، بدسلوکی ، تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ لڑکیو ں سے زیادہ لڑکوں کے ساتھ رونماء ہونے والے زیادتی کے واقعات میں گزشتہ چند سالوں سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ہمارے ریسرچ سیل کی تحقیق کے مطابق ملک بھر سے سن 2025 میں3808گمشدہ بچوں میں سے39بچوں کی لاشیں ملی ،ان ہی ہلاک ہونے والے بچوں میں سے3بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ اس حوالے سے انہوں نے مزید بتاتے ہوئے کہاکہ روشنی ہیلپ لائن نے ملک بھر میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کی علمبردار کی حیثیت سے ملک بھر میں بچوں کے جنسی استحصال ، پورن ویڈیوز، سائبر کرائم کا شکار بچوں کے واقعات کی ہمیشہ ناصرف مذمت کی بلکہ حکامِ بالا کی توجہ بھی اس جانب مرکوز کرائی ہے، کیونکہ بچے ہمارا مستقبل ہیں انکا تحفظ ہر صورت میں ہماری اولین ترجیح ہے اس حوالے سے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تب ہی ہم اپنے بچوں کو ایک محفوظ معاشرہ فراہم کرسکیں گے۔
روشنی ہیلپ لائن 1138 اس موقع پر تمام شہریوں کی توجہ مرکوزکرتی ہے کہ وہ ہوشیار رہیں، گمشدہ بچوں کی فوری اطلاع قریبی تھانے اور روشنی ہیلپ لائن 1138 پر دیں، اس کے ساتھ پاکستان بھر میں بچوں کے لیے حفاظتی طریقہ کار کو بڑھانے کی روشنی ہیلپ لائن کی جاری کاوشوں میں تعاون کریں۔
