
پی آر اے سی اور کارپوریٹ پاکستان گروپ کے تعاون سے پہلا پاکستان پالیسی ڈائیلاگ 14 جنوری کو اسلام میں ہوگا
پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (پی آر اے سی) اور کارپوریٹ پاکستان گروپ کے تعاون سے پہلا پاکستان پالیسی ڈائیلاگ 14 جنوری 2026 کو اسلام میں ہوگا۔ سینٹر محمد اسحق ڈار، ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خارجہ پاکستان تقریب کے مہمان خصوصی ہوں گے۔
ڈائیلاگ عوامی اور نجی شعبے کے درمیان تعمیری گفتگو کو فروغ دینے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ موجودہ دور پاکستان کی اقتصادی صورتحال کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ڈائیلاگ میں عملی اصلاحات، ترقی پسند پالیسی کے اقدامات اور ادارہ جاتی استحکام کی ضرورت پر غور ہوگا۔
ڈائیلاگ کا موضوع “Correcting Course: Pakistan’s Economic Reset,” ہے۔ ایونٹ کے بانی شراکت دار وزارتِ تجارت اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کو بینک الفلاح، بینک اسلامی اور نٹ شیل گروپ کا تعاون حاصل ہوگا۔
تقریب میں پروفیسر احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات؛ سینٹر محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات؛ سینٹر ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی؛ اور محمد علی، وفاقی وزیر برائے نجکاری شرکت کریں گے۔
اہم پینلسٹس میں ڈاکٹر سیموئل رزک، ریزیڈنٹ ریپریزنٹیٹیو، UNDP پاکستان؛ خرم شہزاد، مشیر وزیر خزانہ؛ ضرار خان، وفاقی سیکریٹری آئی ٹی و ٹیلی کام اور چیئرمین PTCL؛ ڈاکٹر عشرت حسین، سابق گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان؛ عامر ابراہیم، سی ای او جاز اور چیئرمین موبی لنک مائیکرو فنانس بینک؛ ماہین رحمان، سی ای او InfraZamin پاکستان؛ نادیہ رحمان، رکن منصوبہ بندی کمیشن؛ ثاقب احمد، گلوبل چیف گروتھ آفیسر، سسٹمز لمیٹڈ؛ مجیب ظہور، منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان، S&P گلوبل؛ اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔
ایونٹ کا اہم موضوع پاکستان کی اقتصادی سمت کو درست کرنا ہے، جس میں برآمدات میں اضافہ، ڈیجیٹل خلاء کو کم کرنا، ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے سبز ترقی کے راستے کو ہموار کرنا اور پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے جیسے امور پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ گفتگو سینئر پالیسی ساز، کاروباری رہنما اور شعبہ جاتی ماہرین کی قیادت اور رہنمائی میں ہوں گی۔
پاکستان پالیسی ڈائیلاگ ایک مستقل قومی پلیٹ فارم تصور کیا جاتا ہے، جو شواہد پر مبنی پالیسی گفتگو کو فروغ دینے، نجی شعبے کی فعال شمولیت کو یقینی بنانے اور اقتصادی ترقی کے لیے عملی اقدامات کو فروغ دینے کی راہ ہموار کرتا ہے۔













