بسم اللہ الرحمن الرحیم

کھیل

پاکستان ویٹ لفٹنگ میں بدانتظامی، اقربا پروری اور ادارہ جاتی زوال پر سنگین سوالات اٹھا دیے گئے

پاکستان ویٹ لفٹنگ کے سابق عہدیدار اور معروف کھیلوں کے مبصر ڈاکٹر حافظ ظفر اقبال نے پاکستان ویٹ لفٹنگ کے معاملات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھیل اور کھلاڑیوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

اپنے ایک تحریری بیان میں انہوں نے سابق فیڈریشن عہدیدار حافظ عمران بٹ کے طرزِ عمل، انتظامی فیصلوں اور سوشل میڈیا پر دی جانے والی وضاحتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات نہ تو مکمل حقائق پر مبنی ہیں اور نہ ہی زمینی حقائق کی درست عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق متضاد مؤقف اور نامکمل وضاحتوں نے ادارہ جاتی مسائل کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔

ڈاکٹر حافظ ظفر اقبال نے کہا کہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ حافظ عمران بٹ ایک وقت میں قومی سطح کے کھلاڑی رہے اور انہیں کھیل کے سینئر اساتذہ اور مخلص ساتھیوں کی سرپرستی حاصل رہی۔ تاہم ان کے بقول پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن جو ایک امانت کے طور پر سونپی گئی تھی، وقت کے ساتھ بدانتظامی، ذاتی مفادات اور اقتدار پسندی کی نذر ہوتی چلی گئی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ میرٹ کو مسلسل نظرانداز کیا گیا، اقربا پروری کو فروغ ملا، مالی شفافیت ختم ہوئی اور آئینی ترامیم اصلاح کے بجائے اقتدار کے تسلسل کے لیے کی گئیں۔ ان کے مطابق اختلافِ رائے رکھنے والے نامور کھلاڑیوں، کوچز اور آفیشلز پر غیر منصفانہ اور تاحیات پابندیاں عائد کی گئیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف ان کے کیریئر متاثر ہوئے بلکہ پاکستان کی عالمی سطح پر کامیابیوں کی صلاحیت بھی کمزور ہوئی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ انہی پالیسیوں کے باعث پاکستان ویٹ لفٹنگ عالمی سطح پر ڈوپنگ اسکینڈلز، طویل معطلیوں اور بھاری جرمانوں سے جڑی ہوئی نظر آنے لگی، جو محض اتفاق نہیں بلکہ غلط ترجیحات اور ناقص حکمرانی کا منطقی نتیجہ ہے۔

ڈاکٹر حافظ ظفر اقبال نے دعویٰ کیا کہ فیڈریشن کو ایک قومی ادارے کے بجائے ذاتی جاگیر کی شکل دے دی گئی، جہاں صوبائی ڈھانچے کمزور ہو چکے ہیں، نمائشی عہدیدار موجود ہیں اور اہل و مخلص افراد کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ قیادت کی اصل پہچان اقتدار سے وابستگی نہیں بلکہ بروقت، شفاف اور باوقار فیصلے کرنا ہے۔ ان کے مطابق وقت آ گیا ہے کہ شفاف انتقالِ اقتدار، میرٹ کی بحالی، ناجائز پابندیوں کے خاتمے اور نئی قیادت کے لیے راستہ ہموار کیا جائے۔

آخر میں ڈاکٹر حافظ ظفر اقبال نے ویٹ لفٹنگ کمیونٹی کو نئے سال کے موقع پر دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ذاتی تعصبات سے بالاتر ہو کر 2026 کو پاکستان میں ویٹ لفٹنگ کی بحالی اور ترقی کا سال بنایا جائے تاکہ کھلاڑیوں کا تحفظ، کھیل کی حقیقی ترقی اور پاکستان کا وقار بحال کیا جا سکے۔

اشتہار
Back to top button