
پاکستان امریکہ باہمی تعاون کے ہمیشہ مثبت نتائج برآمد ہوئے، رضوان سعید شیخ
پاکستان کے امریکا میں سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ سال 2025 کے دوران پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی، جبکہ سال 2026 کو ان تعلقات کے عملی اور ٹھوس نتائج کا سال قرار دیا جا سکتا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارت خانے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے امکانات واضح اور حوصلہ افزا ہیں۔ تاہم باہمی مفادات کی بنیاد پر تمام ممکنہ شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا اور موجود مواقع کو عملی شکل دینا رواں سال کو غیرمعمولی اہمیت کا حامل بناتا ہے۔
سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان اور امریکا نے باہمی تعاون کیا، اس کے نتائج مثبت برآمد ہوئے۔ جدید تاریخ میں اس نوعیت کی بڑی اور کامیاب شراکت داریاں کم ہی دیکھنے میں آتی ہیں۔
انہوں نے دو بڑی آبادیوں اور اہم جغرافیائی حیثیت رکھنے والے ممالک کے درمیان شراکت داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کا تعاون محض خواہش یا انتخاب نہیں بلکہ جغرافیائی، معاشی، آبادیاتی، سماجی اور دیگر عوامل کی بنا پر وقت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کے اقتدار سنبھالتے ہی دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان روابط قائم ہوئے، جن سے ایک مثبت تاثر پیدا ہوا اور معاشی بنیادوں پر طویل المدتی شراکت داری کے عزم کی تجدید ہوئی۔
اس ضمن میں انہوں نے معدنیات، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم اور انسدادِ دہشت گردی جیسے اہم شعبوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ مختلف شعبوں میں جاری پاکستان۔امریکا مذاکرات کے ذریعے پاکستان کی کوشش ہے کہ تعاون کو ادارہ جاتی، منظم اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے تاکہ دونوں ممالک حقیقی معنوں میں باہمی فائدے حاصل کر سکیں۔













