بسم اللہ الرحمن الرحیم

کھیل

پاکستان کرکٹ بورڈ کو اب بابر اعظم پر مکمل اعتماد کرنا ہوگا

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک بار پھر بابر اعظم کو قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سونپ کر کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف سابق کرکٹرز، ماہرین اور شائقین کی بڑی تعداد اس فیصلے کو درست قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ میں کپتانی اب ’’میوزیکل چیئر‘‘ بن چکی ہے، جہاں ہر چند ماہ بعد کپتان تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بابر اعظم واقعی ایک بار پھر پاکستان کے لیے بہترین ٹیسٹ کپتان ثابت ہو سکتے ہیں، یا اصل مسئلہ کپتان نہیں بلکہ نظام ہے؟

دنیا کی کامیاب ٹیموں پر نظر ڈالیں تو ایک بات نمایاں نظر آتی ہے کہ وہاں کپتانوں کو وقت اور اعتماد دیا جاتا ہے۔ آسٹریلیا نے پیٹ کمنز، بھارت نے ویرات کوہلی اور بعد ازاں روہت شرما، جبکہ انگلینڈ نے بین اسٹوکس پر مسلسل اعتماد کیا۔ یہی تسلسل ان ٹیموں کی کامیابی کا ایک اہم سبب بھی بنا۔ اس کے برعکس پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کپتانوں کی تبدیلی ایک معمول بنتی جا رہی ہے، جس کے باعث نہ صرف ٹیم کی حکمت عملی متاثر ہوتی ہے بلکہ کھلاڑیوں کے اعتماد اور ڈریسنگ روم کے ماحول پر بھی اثر پڑتا ہے۔

کپتانی میں بار بار تبدیلی کے باعث بعض حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ شاید ٹیم کے اندر گروپ بندی موجود ہے یا بورڈ اپنی پالیسی پر خود مطمئن نہیں۔ اگرچہ اس تاثر کی تائید میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں، لیکن بار بار کی تبدیلیاں ایسے سوالات کو ضرور جنم دیتی ہیں۔ کسی بھی ٹیم کو عالمی سطح پر کامیاب بنانے کے لیے صرف اچھے کھلاڑی ہی نہیں بلکہ ایک مستقل قیادت اور واضح حکمت عملی بھی ضروری ہوتی ہے۔

بابر اعظم کو پہلی مرتبہ 2021 میں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت ملی تھی۔ ان کی کپتانی میں پاکستان نے کئی یادگار فتوحات حاصل کیں، جن میں سری لنکا میں تاریخی ٹیسٹ سیریز کی کامیابی اور آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں غیر معمولی مزاحمت شامل ہے۔ اسی میچ میں بابر اعظم نے 196 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر ثابت کیا کہ وہ نہ صرف ایک عظیم بیٹر ہیں بلکہ دباؤ میں ٹیم کو سنبھالنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

اگر بطور ٹیسٹ کپتان ان کے ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو اعداد و شمار ان کے حق میں جاتے ہیں۔ بابر اعظم نے پاکستان کی قیادت کرتے ہوئے 20 ٹیسٹ میچز میں ٹیم کی قیادت کی، جن میں 10 فتوحات، 6 شکستیں اور 4 میچز ڈرا ہوئے۔ یوں ان کی کامیابی کا تناسب 50 فیصد بنتا ہے، جو پاکستان کے کامیاب ٹیسٹ کپتانوں میں شمار ہونے کے لیے ایک مضبوط ریکارڈ ہے۔

صرف قیادت ہی نہیں بلکہ بطور بیٹر بھی بابر اعظم پاکستان کے سب سے قابل اعتماد کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ ESPNcricinfo کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق انہوں نے 62 ٹیسٹ میچوں کی 114 اننگز میں 4481 رنز اسکور کیے ہیں۔ ان کی بیٹنگ اوسط 42.67 ہے جبکہ وہ 9 سنچریاں اور 31 نصف سنچریاں بھی اپنے نام کر چکے ہیں۔ ان کا بہترین انفرادی اسکور 196 رنز ہے، جو آسٹریلیا کے خلاف کراچی میں آیا تھا اور اسے جدید دور کی یادگار ٹیسٹ اننگز میں شمار کیا جاتا ہے۔

بابر اعظم کے حق میں سب سے مضبوط دلیل یہی ہے کہ وہ اس وقت پاکستان کے سب سے تجربہ کار اور تکنیکی لحاظ سے مضبوط بیٹر ہیں۔ ٹیم میں ان کا مقام غیر متزلزل ہے، نوجوان کھلاڑی ان سے سیکھتے ہیں اور وہ عالمی سطح پر پاکستان کے سب سے نمایاں کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک ایسے کپتان کی موجودگی، جس کی اپنی کارکردگی مضبوط ہو، ٹیم کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے۔

البتہ تنقید کرنے والوں کی بات بھی مکمل طور پر نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ بابر اعظم گزشتہ چند برسوں میں اپنی کپتانی کے دوران بعض مواقع پر دفاعی حکمت عملی اپناتے رہے اور بولرز کے استعمال میں بھی وہ زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس عرصے میں پاکستان کو کئی مواقع پر معیاری اسپنرز اور مکمل فاسٹ بولنگ اٹیک بھی میسر نہیں تھا، جس کے باعث بعض فیصلوں کا جائزہ صرف نتائج کی بنیاد پر لینا مناسب نہیں ہوگا۔

اصل امتحان اب بابر اعظم سے زیادہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا ہے۔ اگر بورڈ نے انہیں صرف چند سیریز کے لیے کپتان بنایا ہے تو اس فیصلے سے زیادہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ لیکن اگر اس مرتبہ انہیں مکمل اعتماد، واضح اختیارات، مستحکم سلیکشن پالیسی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو وہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کو دوبارہ مضبوط بنیادوں پر استوار کر سکتے ہیں۔ دنیا کی کامیاب ٹیمیں بھی اسی اصول پر عمل کرتی ہیں کہ کپتان کو وقت دیا جائے تاکہ وہ اپنی سوچ کے مطابق ٹیم تشکیل دے سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی کپتان کی کامیابی صرف اس کی قائدانہ صلاحیتوں پر منحصر نہیں ہوتی۔ مضبوط ڈومیسٹک نظام، مستقل سلیکشن کمیٹی، واضح حکمت عملی، بااختیار کوچنگ اسٹاف اور بورڈ کی غیر متزلزل حمایت بھی اتنی ہی ضروری ہوتی ہے۔ اگر ان بنیادی مسائل کو حل کیے بغیر صرف کپتان تبدیل کیے جاتے رہے تو نتائج بھی شاید تبدیل نہ ہوں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بابر اعظم کی دوبارہ تقرری پر اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر اگر صرف اعداد و شمار، تجربے اور صلاحیت کو بنیاد بنایا جائے تو وہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کے مضبوط امیدوار ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ اس بار بھی ماضی کی طرح چند ناکامیوں کے بعد قیادت تبدیل کر دیتا ہے یا پھر بابر اعظم کو وہ تسلسل فراہم کرتا ہے جو ہر کامیاب کپتان کا بنیادی حق ہوتا ہے۔ اگر اس مرتبہ تسلسل برقرار رہا تو بابر اعظم نہ صرف ایک کامیاب کپتان بلکہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کے لیے ایک نئے اور مستحکم دور کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔

اشتہار

یہ بھی پڑھیے

Back to top button