بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

برطانوی جنرل پیٹرک نے پاک فوج کی پیشہ وارانہ مہارت کو بے مثال قرار دے دیا

معروف و نمایاں برطانوی فوجی افسران نے پاکستان آرمی کو شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستانی فوج کو دنیا کی بہترین نظم و ضبط کی حامل فوج قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق کمانڈاینڈ اسٹاف کالج پاکستان سے فارغ التحصیل برطانوی افسران کی لندن میں غیرمعمولی تقریب ہوئی۔آرمی اور نیوی کلب لندن میں منعقدہ خصوصی تقریب کے دوران معروف و نمایاں برطانوی فوجی افسران نے پاکستان کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔

برطانوی افسران نے پاکستانیوں کی مہمان نوازی کو بے مثال قرار دیا اور پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور استعداد کو سراہتے ہوئے اسے دنیا کی بہترین نظم و ضبط کی حامل فوج قرار دیا۔کوئٹہ ایسوسی ایشن کے 50 سینئر برطانوی فوجی جوان جنہوں نے گزشتہ 50 سالوں میں پاکستان آرمی کے ایلیٹ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں تعلیم حاصل کی نے بھی تقریب میں شرکت کی۔کوئٹہ ایسوسی ایشن کے سینئر برطانوی فوجی جوانوں نے لندن کے آرمی اینڈ نیوی کلب میں اپنے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے میں شرکت کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس موقع پر برطانیہ کے آرمی چیف جنرل پیٹرک سینڈرز نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، اس تقریب کا انعقاد برطانوی افسران کے کوئٹہ میں قیام کے لازوال نقوش کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔تجربہ کار برطانوی افسران نے کوئٹہ میں پاک فوج کے عظیم ادارے کو زبردست خراج تحسین اور خراج عقیدت پیش کیا۔

تقریب میں متعدد قابل ذکر برطانوی افسران نے شرکت کی، جن میں لیفٹیننٹ جنرل سر الیسٹار ارون، لیفٹیننٹ جنرل انتھونی پالمر، بریگیڈیئر نک تھامسن، بریگیڈیئر ٹونی بیری اور میجر جنرل کیماس شامل تھے۔تقریب کا انعقاد پاکستان ہائی کمیشن لندن میں آرمی اور ایئر ایڈوائزر نے کیا، اجتماع میں کمانڈنٹ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔

مزید پڑھیے  گوانتاناموبےجیل سے قید پاکستانی شہری سیف اللہ پراچہ رہا

اس موقع پر مہمان خصوصی اور دیگر معززین کو ہائی کمشنر پاکستان اور ان کی شریک حیات کی طرف سے تحائف پیش کیے گئے۔پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے، برطانوی آرمی چیف نے کہا کہ”پاک فوج کی پیشہ وارانہ مہارت کا کوئی موازنہ نہیں “۔

جنرل پیٹرک سینڈرز نے اپنے دور میں ڈیفنس ایسوسی ایشن اور دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں میں پاکستان کو برطانوی فوج کی اولین ترجیح قرار دیا اور گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان میں اپنے دوروں کو بڑے شوق سے یاد کیا۔

جنرل پیٹرک سینڈرز نے مشرق اور مغرب کے عین وسط میں واقع ایک انتہائی اہم ملک کے طور پر پاکستان کی اہمیت پر طویل گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی اور برطانوی فوجیوں کے درمیان افزودہ ایسوسی ایشن اور ٹیپسٹری کا حوالہ دیا اور دفاعی صنعت میں تعاون کے امکانات پر بھی بات کی۔

جنرل پیٹرک سینڈرز نے پاکستان آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت کی تعریف کی اور ان کے ساتھ اپنے ذاتی تعلق اور وابستگی کو بھی بیان کیا ساتھ ہی پاکستان کے دفاعی ونگز اور برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے دیرینہ تعلقات کو ایک اور سطح پر لے جانے کے لیے ملٹری ڈپلومیسی کی پرجوش کوششوں کو بھی سراہا۔

جنرل پیٹرک سینڈرز نے دفاع اور قومی تعمیر میں پاکستانی فوج کے کردار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان کی فوج جنگی صلاحتوں میں ماہر ہے اور ملک کے دفاع کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ شراکت دار ممالک کو اہم مدد فراہم کرنے کی وجہ سے بھی جانی جاتی ہے۔”جنرل پیٹرک سینڈرز نے پاکستانی مسلح افواج کے افسران کی ایمانداری اور دیانتداری کو بھی تسلیم کیا اور پاکستانی قوم کی بے مثال سخاوت کو بھی یاد کیا۔

Back to top button