بسم اللہ الرحمن الرحیم

بین الاقوامی

جنگ بندی قرارداد ویٹو کرنا خوفناک، غیر منصفانہ اور باعثِ شرم ہے۔ صدرجنرل اسمبلی

غزہ میں بچے بھوک اور غذائی قلت کی وجہ سے مر رہے ہیں،85 فیصد لوگ بے گھر ہو گئے

اقوام متحدہ 78 ویں جنرل اسمبلی کے صدر ڈینس فرانسس نے کہا کہ “غزہ کی صورتحال خوفناک، ظالمانہ اور شرمناک ہے۔ سینکڑوں افراد کو خوردنی اشیا کی امداد  فراہم کرنے کے دوران  ہلاک اور زخمی کرنے نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں جنگ بندی کی درخواست کرنے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ مسودہ   قرارداد پر  امریکہ کے  ویٹو کرنے پر بحث  کرنے کے لیے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اس موقع پر افتتاحی تقریر  کرنے والے فرانسس نے   کہا کہ یہ خوفناک، غیر منصفانہ اور باعثِ شرم ہے۔ سینکڑوں بے گناہ انسانوں کوخوراک کی امداد کی ترسیل کے دوران ہلاک اور زخمی کیا جانا  واہیات حرکت ہے۔

فرانسس نے کہا کہ ہزاروں بچے مارے گئے اور ان کے خواب جنگ کی ہولناکی میں چکنا چور ہو گئے۔فرانسس نے کہا کہ تازہ ترین رپورٹوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ غزہ میں بچے بھوک اور غذائی قلت کی وجہ سے مر رہے ہیں، ان  کے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں ان کا مستقبل مر مِٹ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ  غزہ کے تقریبا 85 فیصد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ  انہیں خاص طور پر رفح کے خلاف فضائی حملوں میں اضافے پر گہری تشویش ہے۔

فرانسس نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اسرائیل کی انسانی امداد کی پابندیاں جان بچانے والی امداد کی نقل و حمل میں بہت بڑی  رکاوٹ ہیں ، “جنوری سے فروری تک روزانہ غزہ میں داخل ہونے والے امدادی ٹرکوں میں 50 فیصد کمی آئی ہے۔

فرانسس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اولین طور پر فی الفور فائر بندی  کا قیام اور بمباری کا خاتمہ لازمی امر ہے۔یہ بتاتے ہوئے کہ تمام فریقین  کو بین الاقوامی انسانی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی تعمیل کرنی چاہیے، فرانسس نے یہ بھی کہا کہ انسانی امداد کی مکمل اور بلا روک ٹوک نقل و حمل کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ڈینس فرانسس نے مزید  کہا کہ تمام اسیروں کو غیر مشروط اور فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے اور کہا کہ “ہم اس ہفتے ایک افسوسناک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔پر  تشدد کاروائیاں 150  دنوں سے جاری ہیں۔

Back to top button