بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

سندھ اسمبلی کے نو منتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا، اپوزیشن کا احتجاج

عام انتخابات 2024 کے بعد بننے والی سندھ اسمبلی کے نومنتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا۔سندھ اسمبلی کا پہلا اجلاس 40 منٹ کی تاخیر سے سپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت شروع ہوا، جس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کے بعد نعت رسول مقبول پیش کی گئی۔

اجلاس میں نومنتخب اراکین اسمبلی نے حلف اٹھایا جبکہ سپیکر اسمبلی آغا سراج درانی نے اراکین اسمبلی سے حلف لیا۔سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے نو منتخب اراکین سے سندھی، ارود اور انگریزی زبان میں حلف لیا، اجلاس میں پیپلز پارٹی کے 111 اور ایم کیو ایم کے 36 ارکان نے حلف اٹھایا۔سنی اتحاد کونسل 9، جی ڈی اے 3 اور جماعت اسلامی کے ایک رکن نے حلف نہیں اٹھایا۔

 

نادر مگسی کار ریلی میں شرکت کے باعث کراچی میں موجود نہیں ہیں جبکہ نثار کھوڑو اور جام مہتاب ڈاہر سینیٹ کی نشست برقرار رکھیں گے۔دادو سے پیپلز پارٹی کے منتخب امیدوار عزیز جونیجو کے انتقال پر ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ہے جبکہ جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان کا پی ایس 139 کا نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں ہوا ہے، الیکشن کمیشن کی طرف سے 3 مخصوص نشستوں پر بھی نوٹیفکیشن نہیں ہو سکا۔

سندھ اسمبلی میں حلف برداری کے دوران اپوزیشن رہنماؤں نے احتجاج کیا اور نعرے بازی شروع کر دی۔سندھ اسمبلی میں گیلری میں موجود لوگوں نے نعرے بازی کی، اس دوران سپیکر آغا سراج درانی غصہ ہوگئے ہیں اور احتجاجی رہنماؤں کو خاموش رہنے کی ہدایات کرتے رہے۔سپیکر آغا سراج درانی نے ایوان میں شور کرنے پر ارکان کو ڈانٹ پلا دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں قانونی کارروائی کرنے دیں، لوگ خاموش ہوجائیں ورنہ گیلری خالی کرادوں گا۔

16 ویں سندھ اسمبلی میں جنرل و مخصوص نشستوں پر منتخب 60 ارکان پہلی مرتبہ ایوان کا حصہ بنے ہیں۔جنرل نشستوں پر پہلی مرتبہ سندھ اسمبلی رکن بننے والے 48 میں سے 46 ارکان قانون ساز اسمبلی کا حصہ بن رہے ہیں، ایم کیو ایم کے عبدالوسیم قومی اسمبلی، پیپلزپارٹی کے محمد یوسف بلوچ سینیٹ کے رکن رہ چکے۔

Back to top button