بسم اللہ الرحمن الرحیم

جموں و کشمیر

سلامتی کونسل مقبوضہ کشمیر کے عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرے، پاکستان

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو فوری طور پر مجبور کرے کہ وہ کشمیری عوام پر اپنے مظالم بند کرے اور 5 اگست 2019 سے نافذ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات واپس لے اور مقبوضہ علاقے میں نسل کشی کے مترادف آباد کاری منصوبے کو فوری روکے۔

 رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر منیر اکرم نے یوم حق استصواب رائے کے موقع پر ایک پیغام میں عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں سے کشمیر میں بھارتی جرائم کا ادراک کرنے کی اپیل کی۔

5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاکستان اور بھارت نے ایک تاریخی قرارداد منظور کی تھی جس میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک آزاد اور غیر جانبدار استصواب رائے کا مطالبہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کو اس مسئلے پر اس کی اپنی قراردادوں پر عمل در آمد کی ضرورت کا احساس دلانے کے لیے پاکستانی اور کشمیری عوام لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی دونوں جانب اور دنیا بھر میں 5 جنوری کو یوم استصواب رائے کے طور پر مناتے ہیں۔

نیویارک سے جاری اپنے ایک بیان میں منیر اکرم نے کہا کہ اقوام متحدہ، خاص طور پر سلامتی کونسل پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام سے اپنا 73 سال قبل کیا گیا وعدہ پورا کرے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ عالمی برادری کو یقینی بنانا چاہیے کہ بھارت کے خلاف بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جرائم پر کارروائی کی جائے اور ان جرائم کے ذمہ داروں کو لازمی جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

پاکستانی سفیر نے نشاندہی کی کہ بھارت کی انتہا پسند ہندوتوا حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں تقریباً 9 لاکھ فوجی تعینات کیے ہیں جو وادی میں کرفیو اور مواصلاتی بندش، کشمیری سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری اور ہزاروں کشمیری نوجوانوں کی غیر قانونی حراست کے ظالمانہ راج کے ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قابض فوج ماورائے عدالت قتل، پرامن کشمیری مظاہرین پر بدترین تشدد جس میں پیلٹ گن جو کئی چھوٹے بچوں کو اندھا بھی کرچکی ہیں، ان کا استعمال بھی شامل ہے اور مجموعی سزا کے طور پر پوری آبادیوں اور دیہاتوں کو منہدم کرنے جیسے جرائم میں ملوث ہے۔

منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی رکن ریاستوں کو بھارت کے ہندوتوا رہنماؤں کو کشمیر میں اپنے نام نہاد ’آخری حل‘ کو روکنے کے لیے اپنے فرض سے آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی اس پالیسی کے تحت عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع ریاست کی مستقل آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ مسلم اکثریتی علاقے کو ہندو اکثریتی علاقے میں بدلنے کے لیے بھارت 5 اگست 2019 سے اب تک لاکھوں جعلی ڈومیسائل جاری کر چکا ہے۔

یہ تمام اقدامات جنیوا کنونشن سمیت عالمی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button