بسم اللہ الرحمن الرحیم

کھیل

کوئن اولمپکس طلائی تمغہ جیتنے والی پہلی خواجہ سرا کھلاڑی بن گئیں

25 سالہ کوئن نے 2014 میں کینیڈین ویمن فٹبال ٹیم میں ڈیبیو کیا اور ریو اولمپکس میں برانز میڈل بھی حاصل کیا تاہم انہوں نے گذشتہ برس اس بات کا باضابطہ اعلان کیا کہ وہ خواجہ سرا ہیں

ٹوکیو اولمپکس 2020 میں ویمن فٹبال کے فائنل میں کینیڈا نے سوئیڈن کو سنسنی خیز  مقابلے کے بعد شکست دی اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔

اس فتح کے ساتھ ہی کینیڈین ویمن فٹبال ٹیم میں شامل مڈ فیلڈر ’کوئن‘ بھی اولمپک گولڈ حاصل کرنے والی پہلی خواجہ سرا کھلاڑی بن گئی ہیں۔

25 سالہ کوئن نے 2014 میں کینیڈین ویمن فٹبال ٹیم میں ڈیبیو کیا اور ریو اولمپکس میں برانز میڈل بھی حاصل کیا تاہم انہوں نے گذشتہ برس اس بات کا باضابطہ اعلان کیا کہ وہ خواجہ سرا ہیں۔

اس سے قبل انہیں خاتون ہی تصور کیا جاتا تھا لیکن کوئن کا کہنا ہے کہ وہ کافی عرصے سے اپنی جنس کو لے کر پریشان تھیں، لوگ انہیں جو سمجھتے تھے وہ ویسی نہیں تھیں۔

کوئن کہتی ہیں کہ اپنے بارے میں یہ اعلان کرنا کہ میں خواجہ سرا ہوں بہت بڑا فیصلہ تھا کیوں کہ ہمارے معاشرے میں مخنث کے ساتھ جو برتاؤ کیا جاتا ہے وہ کافی تکلیف دہ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ابھی لڑائی ختم نہیں ہوئی، بہت سے خواجہ سراؤں کو اب بھی کھیل سے دور رکھا جاتا ہے، انہیں اولمپک کھیلنے کا خواب پورا نہیں کرنے دیا جاتا، جب تک وہ سب اس میدان میں نہ آجائیں لڑائی جاری رہےگی۔

خیال رہے کہ خواجہ سرا کھلاڑیوں پر عام طور پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ جسمانی طور پر خواتین سے مضبوط ہوتے ہیں لہٰذا انہیں ویمن ٹیم میں یا خواتین کی کیٹیگری میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔

کوئن کو پیدائشی طور پر لڑکی ڈکلیئر کیا گیا تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بات سمجھی کہ ان کا جسم ان کی جنس سے مطابقت نہیں رکھتا۔ لڑکیوں کی طرح کی جسامت ہونے کی وجہ سے انہیں ویمن فٹبال ٹیم میں برقرار رکھا گیا۔

2004 میں اس بات کی اجازت دی گئی تھی کہ خواجہ سرا کھلاڑی اولمپکس میں شرکت کرسکتے ہیں۔ وہ خواجہ سرا جنہیں پیدائشی طور پر لڑکی قرار دیا گیا انہیں بغیر کسی روک ٹوک مقابلوں میں شرکت کی اجازت ہوتی ہے البتہ 2015 میں اولمپک قواعد میں تبدیلی کے بعد وہ خواجہ سرا جنہیں پیدائشی طور پر لڑکا قرار دیا گیا ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقابلے سے کم سے کم 12 ماہ قبل اپنے جسم میں ٹیسٹوسٹیرون (مردوں میں پائے جانے والے ہارمونز) کی سطح کو کم کرلیں۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button