بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

تحریک انصاف نے وفاقی بجٹ قومی اسمبلی سے منظور کرا لیا

ووٹنگ کا عمل اسپیکر اسد قیصر نے مکمل کرایا ، جہاں تحریک کے حق میں 172 اور مخالفت میں 138 ووٹ آئے

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ایک اور امتحان میں سرخرو ہوگئی ، وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا ، وزیراعظم عمران خان بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں موجود تھے ، جہاں قومی اسمبلی اجلاس میں پہلے فنانس بل کی تحریک منظور کی گئی ، اجلاس کے دوران صورت حال اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے تحریک پیش کرنے کیلئے پہلے 2 بار ارکان سے پوچھا لیکن تیسری مرتبہ اس کی منظوری دے دی مگر اس پر اپوزیشن رکن نواب تالپور نے اعتراض کرتے ہوئے منظوری کو چیلنج کردیا ، اپوزیشن کی جانب سے چیلنج کے جانے پر ڈپٹی اسپیکر نے ووٹنگ کرانے کا اعلان کیا۔

بعد ازاں ووٹنگ کا عمل اسپیکر اسد قیصر نے مکمل کرایا ، جہاں تحریک کے حق میں 172 اور مخالفت میں 138 ووٹ آئے ، جس کی بنیاد پر فنانس بل پیش کرنے کی تحریک کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ، فنانس بل کی تحریک منظور ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں فنانس بل 2021 کی شق وار منظوری دی گئی۔ فنانس بل پیش کرتے وقت قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے، جان بوجھ کر ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو ہر صورت گرفتار کیا جائے گا ، انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر تنقید میرٹ پر کریں ، آپ 20 ارب ڈالر کا بجٹ خسارہ چھوڑ کر گئے ، ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا لیکن آئندہ چند سالوں میں نیچے تک خوشحالی آئے گی کیوں کہ موجودہ بجٹ مکمل طور پر غریب کے لیے ہے ، ہم کام کرنے والے ہیں ، صرف باتیں نہیں کرتے ، جو اعداد و شمار دیئے ہیں ان پر عمل کر کے دکھا دیں گے ، جس کے لیے فنانس بل میں کچھ ترامیم کیں لیکن اپوزیشن نے ترامیم پر کم بات کی صرف سیاسی تقاریر کی گئیں، بجٹ ترمیم پر چند ایک کے علاوہ کسی نے تقریر نہیں کی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے دنیا کی معیشت میں منفی گروتھ ہوئی ، ہم نے ان ڈائریکٹ ٹیکسز کو بڑھایا نہیں کم کیا ہے ، مہنگائی صرف 7 فیصد ہے ، فوڈ آئیٹم پر مہنگائی میں اضافہ ہوا ، زارعت پر خرچ نہیں کریں گے تو کھانے پینے کی اشیا درآمد کرنا پڑیں گی، ہم زراعت پر 150ارب روپے لگا رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کچھ نہیں کیا، کھاد پر ٹیکس چھوٹ ختم نہیں کر رہے بلکہ ہم غربت کو کم کریں گے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے فنانس ترمیمی بل 2021 قومی اسمبلی میں پیش کیا تو اپوزیشن نے بل کی مخالفت کی ، اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ بجٹ میں سوائے ان ڈائریکٹ ٹیکسز کے کچھ نظر نہیں آتا ، حکومت نے آن لائن مارکیٹ پر بھی ٹیکس لگا دیا ، ملک کا کاروباری طبقہ ایک نیب سے تنگ تھا ، اب ایف بی آر کو گرفتاری کے اختیارات دے کر نیب جیسا ایک اور ادارہ لایا جا رہا ہے ، آپ کے ویسٹ پر نیب بیٹھا ہے اور ایسٹ پر ایف بی آر بیٹھا ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ اب تک 3 وزیر خزانہ تبدیل ہوئے، حکومت نے دعویٰ کیا کہ ٹیکس فری بجٹ ہوگا، حکومت نے 1200 ارب روپے کے ٹیکس لگائے، ملک میں تعلیمی اداروں کو فروغ نہیں دیا گیا، ہیلتھ کارڈ بانٹنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، ہیلتھ کارڈ بانٹنے کا بڑا اسکینڈل آئے گا ، ملک میں غربت انتہا کو پہنچ گئی کیوں کہ غریب کو کچل دیا گیا ہے ، زراعت کو آپ نے کیا دیا؟ کیوں زراعت میں اضافہ نہیں ہوتا؟ پاکستان زرعی ملک ہے ، اس کا کیا حشر کر دیا؟ ہماری زمین کم ہوتی جا رہی جب کہ آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button