بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

لاہور جوہر ٹائون میں دھاکہ، دو افراد جاں بحق

دھماکے میں 17 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 4 کی حالت تشویش ناک ہے

لاہور کے علاقے جوہر ٹاون کے ایک گھر میں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ 17 افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے 5 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق دھماکا گھر کے باہر موجود بارودی مواد سے بھری گاڑی میں ہوا ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ دھماکے کی جگہ پر 4 فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا ہے، جس میں وہاں سے گزرنے والے پانی کے پائپ پھٹ گئے، سی ٹی ڈی حکام جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں۔سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں 2 افراد جاں بحق ہوئے، 17 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 4 کی حالت تشویش ناک ہے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس سے قریب واقع گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے، دھماکے سے کچھ راہ گیر بھی زخمی ہوئے ہیں۔ریسکیو ٹیمیں دھماکے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوع پر پہنچ گئیں جنہوں نے امدادی کارروائی کا آغاز کر دیا اور زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کیا۔

زخمیوں کو پرائیویٹ گاڑیوں میں اسپتال پہنچایا گیا، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی موقع پر پہنچ گیا ہے۔پنجاب کے وزیرِ اعلی سردار عثمان بزدار نے دھماکے کے زخمی افراد کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔

وزیرِاعلی پنجاب نے جناح اسپتال اور دیگر اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت بھی کر دی۔ایم ایس جناح اسپتال لاہور ڈاکٹر یحیی کے مطابق اسپتال کی ایمرجنسی عام مریضوں سے خالی کرا لی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں 1 پولیس اہلکار، 1 حاملہ خاتون اور 2 بچے بھی شامل ہیں، جلنے کے باعث 4 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ایک بچہ جس کے سینے پر زخم آئے ہیں اور حاملہ خاتون کو وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

زخمی پولیس اہل کار کی حالت بھی تشویش ناک ہے، جس کے لیے خون کا انتظام کیا گیا۔عینی شاہد خاتون کے مطابق ایک آدمی موٹر سائیکل کھڑی کر کے گیا، جس کے کچھ دیر بعد موٹر سائیکل دھماکے سے پھٹ گئی۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کا فوری طور پر تعین نہیں ہو سکا ہے، بم ڈسپوزل اسکواڈ کی رپورٹ سے ہی دھماکے کی نوعیت کا تعین ہو گا۔ڈی سی لاہور مدثر ریاض نے جناح اسپتال میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسپتال میں داخل 8 زخمیوں کی حالت نازک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنرل تھریٹ ملتی رہتی ہیں، اس طرح کی کوئی تھریٹ موجود نہیں تھی، تحقیقات کے بعد صورتِ حال واضح ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button