بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

کوئٹہ، احتجاجی سرکاری ملازمین نے مطالبات نہ ماننے کی صورت میں بڑی دھمکی دیدی

صوبائی حکومت کے نمائندوں اور سرکاری ملازمین کے رہنماؤں کے مابین مذاکرات کامیابی حاصل نہیں کرسکے جو اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے گزشتہ 6 روز سے دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس دوران 8 مذاکراتی دور ناکام ہوچکے ہیں۔

سرکاری ملازمین نے اپنی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کا سرکاری نوٹی فکیشن جاری نہ ہونے تک اپنا احتجاج ختم کرنے سے انکار کردیا۔دوسری جانب وزیر اعلی جام کمال خان نے کہا کہ اگر احتجاج کرنے والے ملازمین کے مطالبات پورے کیے گئے تو بلوچستان پر 15-10 ارب روپے کے اضافی بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ملازمین کے اتحاد کے رہنماؤں نے حکومت کو ان کے مطالبات کی منظوری کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دیا اور دھمکی دی کہ اگر مطالبات پر عمل نہیں کیا گیا تو بلوچستان میں تمام شاہراہیں بند کردیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button