سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران آن لائن یا ہائبرڈ طریقے سے تعلیم حاصل کرنے والے تقریباً 60 فیصد افراد کو کم از کم ایک سائبر سیکیورٹی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان واقعات سے متاثر ہونے والے 25 فیصد افراد کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔کیسپرسکی کے سروے کے مطابق 62 فیصد جواب دہندگان نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران کسی نہ کسی شکل میں تعلیم حاصل کی۔ ان میں سے 45 فیصد نے مکمل طور پر آن لائن جبکہ 40 فیصد نے آن لائن اور روایتی تدریس پر مشتمل ہائبرڈ نظام کے تحت تعلیم حاصل کی۔
سروے کے مطابق آن لائن یا ہائبرڈ تعلیم حاصل کرنے والے تقریباً 60 فیصد افراد کو تعلیم سے متعلق کم از کم ایک ڈیجیٹل سیکیورٹی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے زیادہ 27 فیصد افراد کو مشکوک پیغامات یا لنکس موصول ہوئے، 20 فیصد جعلی ایپلی کیشنز یا ویب سائٹس کا شکار ہوئے جبکہ 18 فیصد کو آن لائن کمیونٹیز یا میسجنگ گروپس کے ذریعے دھوکہ دہی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح 17 فیصد افراد جعلی کورسز یا تعلیمی اداروں سے متاثر ہوئے، 16 فیصد کو تعلیمی فائلوں یا ایپلی کیشنز میں نقصان دہ سافٹ ویئر کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اتنے ہی افراد کی ذاتی معلومات افشا ہوئیں۔ مزید 14 فیصد افراد کو غیر تسلیم شدہ سرٹیفکیٹس سے متعلق مسائل پیش آئے اور 10 فیصد کے آن لائن اکاؤنٹس ہیک ہوئے۔
سروے میں سائبر واقعات سے متاثر ہونے والے 47 فیصد افراد نے وقت ضائع ہونے کی شکایت کی، 42 فیصد کو غیر ضروری اشتہارات موصول ہوئے جبکہ 34 فیصد کا تعلیمی پلیٹ فارمز پر اعتماد متاثر ہوا۔ اس کے علاوہ 25 فیصد متاثرین کو مالی نقصان اٹھانا پڑا، جو سروے میں شامل مجموعی طلبہ کے تقریباً ہر سات میں سے ایک فرد کے برابر ہے۔
کیسپرسکی کی نائب صدر برائے کنزیومر بزنس مرینا ٹیٹووا نے کہا کہ آن لائن فراہم کیے جانے والے اعلیٰ تربیتی کورسز اور یونیورسٹی پروگراموں کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل تعلیم اور بدلتے ہوئے سائبر خطرات کے باعث صارفین کی مکمل ڈیجیٹل زندگی کے تحفظ کی ضرورت پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رینسم ویئر کے باعث تحقیقی مقالے کا ضائع ہو جانا، جعلی کورس کے لیے رقم ادا کرنا یا کسی نقصان دہ چیٹ لنک پر کلک کرنے سے اکاؤنٹ ہیک ہو جانا ایسے سنگین خطرات ہیں جن کا سامنا آن لائن تعلیم حاصل کرنے والا کوئی بھی شخص کر سکتا ہے۔ مرینا ٹیٹووا کے مطابق اے آر ایم پر مبنی ڈیوائسز کے لیے کیسپرسکی کی سیکیورٹی سہولت متعارف ہونے سے مصنوعی ذہانت پر مبنی فراڈ سے تحفظ کا دائرہ مزید وسیع ہوگا اور صارفین کی آن لائن سرگرمیوں کو زیادہ محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔
آن لائن تعلیم کے دوران سائبر خطرات سے محفوظ رہنے کے لیے کیسپرسکی کے ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہر تعلیمی پلیٹ فارم یا سروس کے لیے الگ پاس ورڈ استعمال کریں۔ مضبوط اور منفرد پاس ورڈ بنانے کے لیے کیسپرسکی پاس ورڈ جنریٹر جبکہ پاس ورڈز کو محفوظ رکھنے کے لیے کیسپرسکی پاس ورڈ مینیجر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین نے قابل اعتماد سیکیورٹی سافٹ ویئر استعمال کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ کمپنی کے مطابق کیسپرسکی پریمیم میں مصنوعی ذہانت پر مبنی فراڈ سے تحفظ کی ٹیکنالوجی شامل ہے، جو مشین لرننگ کے ذریعے فشنگ حملوں کی نشاندہی، صارفین کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی حقیقی وقت میں نگرانی، ڈیٹا لیک کی جانچ اور شناخت کی چوری جیسے خطرات سے تحفظ فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
