ای سی سی کی مختلف وزارتوں کے لیے تقریباً 380 ارب روپے کی منظوری

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مختلف وزارتوں اور شعبوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 380 ارب روپے کی مالی منظوری دے دی ہے۔ ان میں آبی وسائل کے منصوبوں، دفاعی ضروریات، نوجوانوں کے قرضوں، گیس کی فراہمی اور توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔

اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی۔ ای سی سی نے اہم آبی منصوبوں اور جاری ترقیاتی اسکیموں کے لیے 275 ارب روپے، دفاعی خدمات کے جاری منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے، لائن ایج ایل 1000 طیارے کی شمولیت کے لیے 1 ارب 9 کروڑ 40 لاکھ روپے جبکہ پروجیکٹ استقلال کے لیے 29 ارب 13 کروڑ 90 لاکھ روپے کی منظوری دی۔

اجلاس میں فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) کے ہیلی کاپٹر کی دیکھ بھال کے لیے 37 لاکھ 10 ہزار روپے کی گرانٹ بھی منظور کی گئی۔

ای سی سی نے کفایت شعاری اور ایندھن کی بچت کے اقدامات سے حاصل ہونے والی 15 ارب 62 کروڑ 50 لاکھ روپے کی رقم وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں منتقل کرنے کی منظوری بھی دی۔

کمیٹی نے رواں مالی سال کے دوران گیس پیدا کرنے والے کنوؤں کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع دیہات کو گیس فراہم کرنے کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی۔

اس کے علاوہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز (ایس این جی پی ایل) سے منسلک کھاد بنانے والے اداروں فاطمہ فرٹ اور ایگری ٹیک کو 31 دسمبر 2026 تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی، تاہم یہ منظوری مطلوبہ توانائی کی دستیابی سے مشروط ہے۔

ای سی سی نے 89 پیٹرولیم حقوق کی توسیع اور تجدید کے لیے متعلقہ ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن قواعد میں نرمی کی بھی منظوری دی، جو مقررہ شرائط پوری کرنے سے مشروط ہوگی۔

اجلاس میں وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے تحت قرضوں کی مختلف سطحوں اور بینک شرحِ سود میں مجوزہ تبدیلیوں کی منظوری بھی دی گئی۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کے لیے آسان شرائط پر مالی سہولتوں تک رسائی بڑھانا، کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔

کمیٹی نے کیمرے والے اسمارٹ گلاسز کی درآمد پر پابندیوں کی بھی منظوری دی اور صوبائی حکومتوں سمیت اسلام آباد انتظامیہ کو ان آلات کے کام کی جگہوں پر استعمال سے متعلق مناسب ضوابط تیار کرنے کی سفارش کی۔

↑
Exit mobile version