مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں اسلام آباد کے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو منصوبے میں سنگین بے ضابطگیوں، ریکارڈ میں ردوبدل اور دھوکہ دہی کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ بات وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے آج اسلام آباد میں وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور امور داخلہ کے وزیرمملکت طلال چوہدری کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔
احسن اقبال نے کہا کہ نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، ایس ای سی پی، آئی بی اور آئی ایس آئی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے منصوبے کی تفصیلی تحقیقات کیں اور اپنی رپورٹ وفاقی کابینہ کو پیش کی، جس نے جے آئی ٹی کی سفارشات کی منظوری دی۔
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے پری آڈٹ، نیلامی اور معاہدوں سے متعلق امور کے لیے تیسرے فریق کی خدمات حاصل کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ نیب کو ہدایت کی گئی ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں جن افراد کی نشاندہی کی گئی ہے ان سب کے خلاف جامع تحقیقات کرے اور ذمہ دار وں کے خلاف متعلقہ قانون کے تحت کارروائی کرے، جس میں ان کی سرپرستی یا معاونت کرنے والے افراد بھی شامل ہوں۔
اس موقع پر عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ امیر اور غریب کے درمیان کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ان خریداروں کے مفادات کے تحفظ کی سفارش کی ہے جنہوں نے پاکستان یا بیرون ملک رہتے ہوئے اپنی جائز آمدن سے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ نیب کی تحقیقات تیز کرکے اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا جبکہ مقدمے کی سماعت کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔
اس موقع پر طلال چوہدری نے کہا کہ یہ منصوبہ تقریبا دو دہائیوں سے زیر غور تھا تاہم اس کے خلاف دو بار بڑی کارروائی ہوئی اور دونوں مرتبہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت میں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی کوشش کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی سمیت بعض افراد نے ابھی تک سامنے آ کر یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے اپنے اپارٹمنٹس کیسے حاصل کیے۔
