کاسمو پولیٹن کلب میں مشاعرہ، ادب کی خوشبو اور جمہوری اقدار کا حسین امتزاج

خصوصی تحریر

ادب محض الفاظ کی ترتیب، خیالات کی ترجمانی یا جذبات کے اظہار کا نام نہیں بلکہ یہ معاشرے کی فکری تربیت، انسانی شعور کی بیداری، سماجی رویوں کی اصلاح اور تہذیبی اقدار کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ جب شعر و سخن کی محفلیں ادبی سرگرمیوں کے ساتھ باہمی احترام، جمہوری روایات اور اجتماعی ذمہ داریوں کے احساس کو بھی اجاگر کریں تو ان کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ لاہور جیسے زندہ دل، علم دوست اور ادبی روایات کے امین شہر میں منعقد ہونے والی تقریبات اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ ادب آج بھی معاشرتی زندگی میں اپنا نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

اسی ادبی و تہذیبی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے کاسمو پولیٹن کلب لاہور کی لائبریری میں ایک پُروقار مشاعرے اور فکری نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں اہلِ قلم، شعرائے کرام، ادبی شخصیات اور کاسمو گرینڈ الائنس گروپ کے امیدواروں نے شرکت کی۔ یہ تقریب انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی، جس کا ایک اہم مقصد ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ کاسمو پولیٹن کلب لاہور کے 18 اکتوبر 2026ء، بروز اتوار ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں کاسمو گرینڈ الائنس گروپ، یعنی سید زوار حسین شاہ پینل، کی انتخابی مہم کو بھی آگے بڑھانا تھا۔

تقریب کی صدارت معروف ادبی شخصیت کامریڈ اسلم گورداسپوری نے کی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں نذیر قیصر، تاثیر نقوی، ڈاکٹر مرلی چوہان، شکیل احمد زیب، پروین سجل، ڈاکٹر عمرانہ مشتاق، تسنیم کوثر، عروج زیب اور ریحانہ شبیر شامل تھے۔ اس موقع پر کاسمو گرینڈ الائنس گروپ کے صدر سید زوار حسین شاہ، نائب صدر ڈاکٹر انصر پرویز اور ان کے پینل کے دیگر امیدواروں نے بھی شرکت کی۔

یہ محفل اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس لیے بھی اہم تھی کہ اس میں ادبی ذوق، فکری مکالمے اور انتخابی سرگرمیوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کیا گیا۔ تقریب کے دوران جہاں شعرائے کرام نے اپنے کلام کے ذریعے حاضرین کو محظوظ کیا، وہیں کلب کے مستقبل، تنظیمی معاملات اور اجتماعی ترقی کے حوالے سے بھی اظہارِ خیال کیا گیا۔

تقریب میں گفتگو کا آغاز کامریڈ تنویر احمد خان نے کیا۔ ان کے بعد کاسمو گرینڈ الائنس گروپ کے نائب صدر کے امیدوار ڈاکٹر انصر پرویز، اعزازی سیکرٹری کے امیدوار عامر حمید، گیم سیکرٹری کے امیدوار حماد حسن اور گروپ کے صدر سید زوار حسین شاہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین کی گفتگو میں انتخابی عمل، باہمی تعاون، ادارے کی بہتری اور کلب کی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے جیسے موضوعات نمایاں رہے۔

کسی بھی ادارے کے انتخابات محض عہدوں کے حصول کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ یہ ادارے کے مستقبل کی سمت متعین کرنے کا ایک اہم مرحلہ بھی ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پر امیدواروں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنی ترجیحات، منصوبہ بندی اور ادارے کی ترقی کے لیے اپنے وژن کو واضح انداز میں پیش کریں۔
کاسمو پولیٹن کلب لاہور کے انتخابات کے تناظر میں منعقد ہونے والی اس تقریب نے ادبی اور سماجی حلقوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کیا۔ انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان کی جانب سے مشاعرے کا اہتمام اس بات کی علامت بھی تھا کہ انتخابی سرگرمیوں کے دوران ادب، ثقافت اور فکری مکالمے کو نظرانداز کرنے کے بجائے انہیں اہمیت دی جا سکتی ہے۔

تقریب کی نظامت جاوید آفتاب نے نہایت منظم، پُراعتماد اور مؤثر انداز میں کی۔ ان کی نظامت نے محفل کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مقررین اور شعرائے کرام کو اپنے خیالات اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے مناسب ماحول فراہم کیا۔

مشاعرے میں جاوید آفتاب، مبینہ عصیم، نجمہ شاہین، اکرام حشمت، کنور عبدالماجد، محمد نوید نواز، جمشید پیٹر، سید مبارک علی، شوکت علی ناز، اقبال بخاری اور فیصل فابانی سمیت دیگر شعرائے کرام نے شرکت کی۔ شعرائے کرام نے اپنے کلام کے ذریعے محفل کو ادبی رنگ عطا کیا اور حاضرین کو شعر و سخن کی خوب صورت دنیا سے روشناس کرایا۔

شاعری انسانی جذبات، معاشرتی مسائل، محبت، امن، امید اور زندگی کے تجربات کو مؤثر انداز میں بیان کرنے کی ایک طاقت ور ذریعہ ہے۔ ایک اچھی ادبی محفل نہ صرف سامعین کے ذوق کی تسکین کرتی ہے بلکہ انہیں سوچنے، سمجھنے اور معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ اس حوالے سے مذکورہ مشاعرہ اہلِ قلم اور ادب دوست شخصیات کے درمیان فکری ہم آہنگی پیدا کرنے کی ایک قابلِ قدر کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔

تقریب کے اختتام پر مہمانوں اور حاضرین کی ہائی ٹی سے تواضع کی گئی۔ بعدازاں کاسمو گرینڈ الائنس گروپ، سید زوار حسین شاہ پینل، کی جانب سے کاسمو کلب کے لان میں منتظمین، صدرِ محفل، مہمانانِ خصوصی، شعرائے کرام اور دیگر شرکائے تقریب کے اعزاز میں ایک پُروقار ڈنر کا اہتمام بھی کیا گیا۔
اس موقع پر سید زوار حسین شاہ کی جانب سے مہمانوں کے لیے محبت، خلوص اور میزبانی کے اظہار کو سراہا گیا اور منتظمین کی جانب سے ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا۔ کسی بھی کامیاب تقریب میں مہمان نوازی، باہمی احترام اور شرکاء کے ساتھ خوش گوار تعلقات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

اس ادبی تقریب کے انعقاد اور انتظامی امور میں کامریڈ تنویر احمد خان، مرکزی صدر پی ڈبلیو اے پاکستان، جاوید آفتاب، مرکزی سیکرٹری پی ڈبلیو اے پاکستان، ندیم مرزا اور توقیر کامران، آرگنائزرز کاسمو گرینڈ الائنس گروپ، ضماد گریوال، انفارمیشن سیکرٹری پی ڈبلیو اے پنجاب، رضا نعیم، صدر پی ڈبلیو اے لاہور، روبینہ راجپوت، نائب صدر پی ڈبلیو اے لاہور، مبینہ عصیم اور نبیلہ اکبر، انفارمیشن سیکرٹری پی ڈبلیو اے لاہور، نے اہم کردار ادا کیا۔

بلاشبہ ایسی تقریبات کسی بھی معاشرے کے ادبی اور سماجی منظرنامے کو متحرک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے ذریعے نہ صرف شعر و ادب سے وابستہ شخصیات کو اپنی تخلیقات پیش کرنے کا موقع ملتا ہے بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان روابط، مکالمے اور باہمی تعاون کی فضا بھی پروان چڑھتی ہے۔

کاسمو پولیٹن کلب لاہور میں منعقد ہونے والی یہ تقریب اس اعتبار سے قابلِ ذکر رہی کہ اس میں ادبی سرگرمیوں کے ساتھ تنظیمی اور انتخابی معاملات کو بھی جگہ دی گئی۔

امید کی جانی چاہیے کہ کاسمو پولیٹن کلب لاہور کے انتخابات ادارے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوں گے ۔ اسی طرح انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان اور دیگر ادبی تنظیموں کی جانب سے ایسی تقریبات کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے تاکہ نئی نسل میں مطالعے، تخلیقی اظہار اور ادبی ذوق کو فروغ حاصل ہو۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ادب، مکالمہ، باہمی احترام اور جمہوری رویے کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان ہوتے ہیں۔ کاسمو پولیٹن کلب لاہور میں منعقد ہونے والی یہ ادبی و انتخابی تقریب اسی سوچ کی ایک خوب صورت مثال تھی، جس نے شعر و سخن کی خوشبو کے ساتھ باہمی رابطے اور اجتماعی ترقی کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔

↑
Exit mobile version