شاہوالا جنوبی میں آٹھواں سالانہ آل پاکستان محفلِ مشاعرہ کاانعقاد

ادب کسی بھی معاشرے کی تہذیبی شناخت، فکری بیداری اور جذباتی احساسات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ جہاں شعر و سخن کی محفلیں آباد رہیں، وہاں دلوں میں محبت، معاشرے میں برداشت اور فکر میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ ضلع خوشاب کے علاقے شاہوالا جنوبی میں بزم سعد شاہوالا کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی آٹھویں سالانہ آل پاکستان محفلِ مشاعرہ بھی اسی خوبصورت ادبی روایت کا تسلسل ہے، جس نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ وسیب کی دھرتی آج بھی شعر، ادب اور ثقافت سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔

شاہوالا میں سجنے والی یہ پروقار ادبی محفل محض ایک مشاعرہ نہیں بلکہ وسیب کی تہذیبی اور ادبی زندگی کا ایک خوبصورت منظرنامہ تھی۔ ملک بھر سے تشریف لانے والے نامور شعراء، ادباء، دانشوروں اور اہلِ ذوق نے اپنی شرکت سے محفل کی رونق کو دوبالا کیا، جبکہ شعراء کرام کے کلام نے حاضرین کو دیر تک اپنے سحر میں مبتلا کیے رکھا۔ ہر طرف شعر و سخن کی گونج، ادب سے محبت اور فن کی قدر دانی کا حسین ماحول دکھائی دیا۔

اس محفل کی ایک اہم اور قابلِ تحسین خصوصیت معروف شاعر سلیم سعد کی غزلیہ کتاب ’’وسیِب دا نوحہ‘‘ کی تقریبِ رونمائی تھی۔ یہ کتاب محض شعری مجموعہ نہیں بلکہ وسیب کے احساسات، تہذیب، ثقافت، محرومیوں، اجتماعی درد اور زندگی کے مختلف رنگوں کی عکاس محسوس ہوتی ہے۔ پروفیسر قلب عباس عابس بھکر نے کتاب پر جامع مقالہ پیش کیا، جبکہ پیر سید قمر بخاری اور محمد خان مچھرانی نے کتاب اور صاحبِ کتاب کے حوالے سے فکر انگیز گفتگو کرکے تقریب کی ادبی معنویت میں اضافہ کیا۔ مقررین نے ’’وسیِب دا نوحہ‘‘ کو وسیب کی آواز اور اس کے اجتماعی احساسات کی خوبصورت ترجمانی قرار دیا۔
محفل کے مہمانِ خصوصی چیف آرگنائزر لٹریری اینڈ سپورٹس ایکٹیویٹیز ڈسٹرکٹ خوشاب ملک عبدالغفور آصف بوڑانہ تھے۔ ان کی موجودگی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ ضلع خوشاب میں ادب اور کھیل کے فروغ کے لیے کام کرنے والی شخصیات ادبی سرگرمیوں کو بھی معاشرتی ترقی کا اہم ذریعہ سمجھتی ہیں۔

محفل میں ملک گل حمید چاونس، معروف سماجی شخصیت محمد اختر، ملک اکرم واگھرہ، ملک مبین واگھرہ، ملک اشتیاق پلوآں، ملک ایوب واگھرہ، پروفیسر نجیب اللہ واگھرہ، ملک احسان اللہ واگھرہ، ملک گلزار پلواں، ڈاکٹر حسیب واگھرہ، ملک محمد اختر واگھرہ، ملک نیئر واگھرہ، ملک جندہ خان اورا، ملک ارشاد واگھرہ، ثمر اقبال خان، عنایت اللہ، ملک احد واگھرہ، ملک دلشیر واگھرہ، ڈاکٹر سخی، ڈاکٹر امان گل، ڈاکٹر خالد، سید تاثیر شاہ، ملک اشفاق پلوآں، ملک مظاہر پلوآں، ملک ارشد واگھرہ، ریاض ملاح، سیٹھ غلام عباس، احمد حیات، عاقب اور عبدالباسط جسرا سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔

شعری نشست میں پروفیسر قلب عباس عابس، جاوید اقبال راز، سید قمر بخاری، ضامن کربلائی، وقاص اللہ وقاص، قیصر عزیز یاور واگھرہ، محترمہ مہہ جبین، ملک پرویز منیر، بلال صابر، جاوید دانش، مرید تسلیم، اقلیم راز، ثمر اقبال ثمر، ضیاء اللہ کنول، رحمان ممک، واقف حسین کندانی، آصف اقبال عاصی اور ارشد مخفی سمیت معروف شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ شعراء کے منفرد اسلوب، خوبصورت اشعار اور فکر انگیز موضوعات نے حاضرین سے بھرپور داد وصول کی اور محفل کو ایک یادگار ادبی شام میں تبدیل کردیا۔

مشاعرے کی کامیابی میں نظامت کا بھی نمایاں کردار رہا۔ شریف آتش اور غلام عباس تسکین نے نہایت خوبصورت، برجستہ اور دلنشیں انداز میں نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ان کی شگفتہ گفتگو اور بروقت اشعار نے محفل کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے ادبی فضا کو مزید دلکش بنا دیا۔

درحقیقت بزم سعد شاہوالا کی یہ کاوش اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر اخلاص، محبت اور تسلسل کے ساتھ ادبی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے تو چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں بھی ادب کے بڑے مراکز وجود میں آسکتے ہیں۔ شاہوالا میں آٹھ برس سے مسلسل آل پاکستان مشاعرے کا انعقاد یقیناً ایک قابلِ تحسین ادبی خدمت ہے۔ یہ سلسلہ نئی نسل کو اپنی زبان، تہذیب، ثقافت اور شعری ورثے سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

آخر میں بزم سعد شاہوالا کے بانی محمد سلیم سعد کی کاوشیں خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں، جنہوں نے اس ادبی روایت کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ اسے مسلسل آگے بڑھایا۔ ان کی جانب سے مہمانوں، شعراء، ادباء، دانشوروں اور اہلِ ذوق کا تہہ دل سے شکریہ اور آئندہ بھی ایسی محافل کے انعقاد کا عزم اس بات کی امید دلاتا ہے کہ وسیب میں ادب و ثقافت کی شمع مزید روشن ہوگی۔

شاہوالا کی یہ ادبی شام اس پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ شعر صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ تہذیب کی آواز، احساس کی زبان اور معاشرے کے اجتماعی شعور کا آئینہ ہے۔ آٹھواں سالانہ آل پاکستان محفلِ مشاعرہ بھی اسی احساس، اسی محبت اور اسی ادبی خوشبو کو بکھیرتے ہوئے ایک یادگار تقریب بن گیا، جس کی خوشگوار یادیں یقیناً مدتوں اہلِ ذوق کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔

↑
Exit mobile version