اگر محسن نقوی سے ٹرافی لینا توہین ہے، تو ایشین کرکٹ کونسل میں رہنا کیوں ضروری؟

ہندوتوا سوچ کے مالک مودی کی ایما پر بھارتی کرکٹ ٹیم کا ایشیا کپ کی ٹرافی ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے وصول نہ کرنا اب محض ایک تقریب کا معاملہ نہیں رہا۔ یہ ایک ایسا سوال بن چکا ہے جس کا جواب بھارتی کرکٹ بورڈ اور بھارتی ٹیم کو دینا چاہیے۔

اگر محسن نقوی سے ہاتھ ملانا یا ان کے ہاتھ سے ٹرافی وصول کرنا بھارتی ٹیم کے نزدیک قابلِ قبول نہیں، اگر ان کے سامنے کھڑا ہونا بھی ایک سیاسی مؤقف بن چکا ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ بھارت ایشین کرکٹ کونسل کا حصہ کیوں ہے؟

محسن نقوی اس وقت صرف پاکستان کے وزیر داخلہ یا پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نہیں بلکہ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر بھی ہیں۔ ACC کی اپنی ویب سائٹ پر محسن نقوی صدر اور بھارتی نمائندے راجیو شکلا کو ایگزیکٹو بورڈ ممبر دکھایا گیا ہے۔

تو پھر اصول ایک ہونا چاہیے۔

اگر بھارتی مؤقف یہ ہے کہ محسن نقوی سے کوئی تعلق یا رسمی تعامل قابلِ قبول نہیں، تو پھر اسی اصول کو ایشین کرکٹ کونسل کی سطح پر بھی لاگو کیا جائے۔ ACC کے اجلاسوں میں شرکت بھی نہ ہو، اس کے ٹورنامنٹس میں شرکت بھی نہ ہو اور اس کے انتظامی ڈھانچے کا حصہ بھی نہ رہا جائے۔

لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔

بھارت ACC کا رکن بھی ہے، اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے میں نمائندگی بھی رکھتا ہے اور اسی کونسل کے زیرِ انتظام ایشیا کپ سمیت بڑے ٹورنامنٹس میں بھی حصہ لیتا ہے۔ ACC کے تحت ہونے والے ٹورنامنٹس ایشیائی کرکٹ کے مرکزی مقابلوں میں شامل ہیں۔

پھر سوال یہ بنتا ہے کہ مسئلہ ایشین کرکٹ کونسل سے ہے یا صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس کے صدر کا تعلق پاکستان سے ہو؟

اگر سیاست کرنی ہے تو پوری طرح کریں۔ اگر محسن نقوی سے ٹرافی لینا توہین ہے تو پھر ان کی صدارت والی ACC کے پلیٹ فارم پر بیٹھنا بھی تو اسی منطق کے تحت قابلِ اعتراض ہونا چاہیے۔

اور اگر ACC ایک غیر سیاسی کرکٹ ادارہ ہے، اس کی رکنیت اور ٹورنامنٹس میں شرکت کھیل کا حصہ ہے، تو پھر اس کے صدر کی حیثیت سے محسن نقوی کے ہاتھ سے ٹرافی وصول کرنے کو سیاسی تنازع بنانا بھی اسی غیر سیاسی اصول سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔

یہ سوال اس لیے مزید اہم ہوگیا ہے کہ یہ مسلسل دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ 2025 کے مردوں کے ایشیا کپ میں بھی بھارتی ٹیم نے محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کی تھی، اور 2026 کے خواتین ایشیا کپ میں بھی بھارت نے ٹرافی پریزنٹیشن میں شرکت نہیں کی۔ حالیہ واقعے سے قبل BCCI نے ACC کو اپنے مؤقف سے آگاہ بھی کیا تھا۔

یعنی معاملہ اب محض اچانک پیدا ہونے والی صورتحال نہیں لگتا؛ یہ ایک باقاعدہ پالیسی مؤقف کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

لیکن یہاں پاکستان کو بھی ایک اصولی بات سمجھنی چاہیے: تنقید شخصیت پر نہیں، تضاد پر ہونی چاہیے۔

محسن نقوی پاکستان کے وزیر داخلہ ہیں، پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ہیں اور ACC کے صدر بھی ہیں۔ بھارتی ٹیم کو ان کے ساتھ اختلاف ہے تو یہ ان کا سیاسی یا ادارہ جاتی مؤقف ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اسی شخصیت کی صدارت والی ایشین کرکٹ کونسل میں بھارت اپنا مقام برقرار رکھتا ہے، اس کے ادارہ جاتی نظام میں نمائندگی کرتا ہے اور اس کے ٹورنامنٹس میں کھیلتا ہے، تو پھر ٹرافی کے وقت اچانک یہ کہنا کہ ان کے ہاتھ سے ٹرافی لینا ناقابلِ قبول ہے، ایک واضح تضاد ضرور پیدا کرتا ہے۔

اگر محسن نقوی قابلِ قبول نہیں تو ACC کیوں قابلِ قبول ہے؟

اگر ACC قابلِ قبول ہے تو اس کے صدر کی حیثیت بھی تسلیم کرنا ہوگی۔

اور اگر بھارتی کرکٹ واقعی یہ سمجھتی ہے کہ محسن نقوی کے ہاتھ سے ٹرافی لینا اس کے اصولوں کے خلاف ہے، تو پھر سب سے بڑا اور واضح احتجاج یہی ہوگا کہ بھارت ACC کی رکنیت، اس کے اجلاسوں اور اس کے ٹورنامنٹس سے بھی الگ ہو جائے۔

ورنہ پھر یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا:

کیا بھارت کھیل کو سیاست سے دور رکھنا چاہتا ہے، یا سیاست کو کھیل کے اندر اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنا چاہتا ہے؟

کیونکہ کھیل کے میدان میں اصول اگر واقعی اصول ہیں، تو وہ ٹرافی کے وقت بھی وہی ہونے چاہئیں اور ACC کے اجلاس کے وقت بھی۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو جس ہزیمت کا سامنا معرکہ حق کے دوران کرنا پڑا اس پر پردہ ڈالنے اور اس

Exit mobile version