ایک جانب آج پوری قوم عیدالاضحیٰ منا رہی ہے، وہ عظیم تہوار جو ہمیں قربانی، ایثار اور اپنے وطن و قوم کیلئے ہر چیز نچھاور کرنے کا درس دیتا ہے، تو دوسری جانب قوم یومِ تکبیر کی خوشی بھی منا رہی ہے؛ وہ تاریخی دن جب پاکستان نے دنیا پر واضح کر دیا تھا کہ یہ قوم اپنے دفاع، خودمختاری اور سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ یہ دن ہمیں اُن بے شمار قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو قوم، افواجِ پاکستان اور ہمارے عظیم سائنس دانوں نے ملک کو ناقابلِ تسخیر بنانے کیلئے دیں۔
پاکستان کی قوم آج ایٹمی قوت بننے کی 27ویں سالگرہ جوش و جذبے کے ساتھ منا رہی ہے۔ پاکستان کا ایٹمی قوت بننا نہ صرف قومی سلامتی اور خودمختاری کی ضمانت ہے بلکہ یہ اسلامی دنیا کے لیے بھی اُمید کا نشان ہے۔ پاکستان نے 28 مئی 1998ء کو چاغی کے پہاڑوں میں یکے بعد دیگرے 5 ایٹمی دھماکے کر کے ہمسایہ اور دشمن ملک بھارت کی برتری کا غرور خاک میں ملا دیا تھا۔
28 مئی 1998ء کو پاکستان نے ایٹمی قوت بننے کے بعد جس میزائل ٹیکنالوجی پر کام شروع کیا اس کا نظارہ بھارتی جارحیت کے دوران پاکستان کی جانب سے اپنے دفاع میں 10 مئی کو ساری دنیا نے دیکھا۔ پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے ناقابلِ تسخیر اور ازلی دشمن کے کسی بھی حملے کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت کا حامل ہو چکا ہے الحمدللہ!
28 مئی 1998ء کو پاکستان کی جانب سے محض ایک ایٹمی دھماکہ نہیں کیا گیا تھا بلکہ ایک ایسا دائرہ کھینچا گیا جو پاکستان کے دشمن بالخصوص بھارت کیلئے واضح اور دوٹوک پیغام تھا۔ یہ دنیا کیلئے بھی ایک واضح پیغام تھا کہ پاکستان کی جانب سے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کا اعلان کسی جارحیت کی جانب قدم نہیں بلکہ اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانا ہے۔ قوم آج بھی اپنے تمام ایٹمی سائنس دانوں کی شکرگزار ہے جنہوں نے دفاعِ پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ یہ دن محض ماضی کی یادگار نہیں ہوتے بلکہ ہر سال ہمیں نئی توانائی، نیا جذبہ اور قومی عزم عطا کرتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جب قیادت مخلص ہو، افواج تیار ہوں اور قوم متحد ہو تو کوئی دشمن خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ہمیں زیر نہیں کر سکتا۔
ہندوتوا نظریے کا حامل مودی اور اس کی فوج نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان کیخلاف جس بلاجواز جارحیت کا ارتکاب کیا، اس کے نتیجے میں پاکستان کی جانب سے 10 مئی کو اپنے دفاع میں جو جواب دیا گیا دراصل یہ 28 مئی 1998ء کو کئے گئے ایٹمی دھماکوں کا تسلسل تھا۔ بھارت شاید بھول گیا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے، اس کی میزائل ٹیکنالوجی، اس کی فضائیہ، بری اور بحری افواج دفاعِ وطن کیلئے ہر لمحہ تیار ہیں۔ 10 مئی کو پاکستان کی جانب سے اپنے دفاع میں ٹھیک ٹھیک نشانے پر داغے جانے والے میزائل بھارت کو پیغام تھے کہ پاکستان نہ پہلے کبھی کمزور تھا اور نہ ہی اب کمزور ہے۔ یہ ایٹمی دھماکوں کے بعد میزائل ٹیکنالوجی کو وسعت دینے کا ایک نظارہ تھا جسے دنیا نے دیکھا اور بھارت نے بھگتا۔
مودی اور اس کی فوج شاید فیلڈ مارشل سید جنرل عاصم منیر اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی اس بات کو بھول گئے تھے کہ تمہیں مرنے سے ڈر لگتا ہے اور ہم شہید ہونے کی آرزو لے کر وطن کا دفاع کرتے ہیں۔ آج ہمیں فخر ہے ان شہداء پر جنہوں نے اپنے لہو سے وطن کی مٹی کو سیراب کیا۔ وہ سپوت جنہوں نے قوم کیلئے جان دی، وہ مائیں جنہوں نے ایسے شیر دل جوانوں کو جنم دیا، وہ بیوائیں جنہوں نے ضبط کی چادریں اوڑھ کر صبر کی مثالیں قائم کیں، یہ سب ہمارے اصل ہیرو ہیں۔ ان کے بغیر پاکستان کا یہ سفر ممکن نہ ہوتا۔ ہم ان تمام شہداء کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتے ہیں۔
بھارت اور اس کے انتہا پسند وزیراعظم مودی کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنی ہندوتوا سوچ کو ترک کرکے خطے میں امن کیلئے آگے بڑھے۔ اب بھی اس کے پاس وقت ہے کہ وہ چند ووٹوں کے حصول کیلئے نہ اپنی قوم کو اذیت میں مبتلا کرے اور نہ ہی خطے کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش کرے۔ مودی کے پاس اب بھی وقت ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی اسپانسر کرنا بند کرے، ورنہ دوبارہ جارحیت کی صورت میں 10 مئی سے زیادہ سخت اور بھرپور جواب دیا جائے گا اور پھر کسی ملک کی ثالثی پر سیز فائر بھی نہیں ہوگا۔

