عبدالباسط صاحب کی عمر پچپن برس کے قریب پہنچ چکی تھی۔
زندگی کی دھوپ میں انہوں نے نہ جانے کتنے موسم گزار دیے تھے۔ صبح سویرے دفتر جانا، شام تھکے قدموں سے گھر لوٹنا، بچوں کی فیسیں، گھر کے اخراجات، بیماری، مہنگائی، ذمہ داریاں… یہی ان کی زندگی کا خلاصہ تھا۔
وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی خواہشوں کو کبھی زبان نہیں دیتے، صرف دل میں دفن کرتے رہتے ہیں۔
ہر سال جب عیدالاضحی قریب آتی تو محلے کی گلیاں بدلنے لگتیں۔ کہیں بکروں کی آوازیں، کہیں بچوں کی خوشیاں، کہیں جانوروں کے گلے میں بندھی رنگین رسیاں۔
عبدالباسط خاموشی سے یہ سب دیکھتے اور پھر نظریں جھکا لیتے۔
وہ قربانی کرنا چاہتے تھے۔
بہت چاہتے تھے۔
مگر خواہش اور استطاعت کے درمیان کھڑی غربت ہر بار ان کے ہاتھ روک لیتی تھی۔
شروع شروع میں یہ دکھ صرف ان کے اپنے دل تک محدود تھا۔ وہ عید کی نماز پڑھ کر آتے، دوسروں کو مبارکباد دیتے، گوشت کے تھیلے وصول کرتے اور رات کی تاریکی میں اپنے رب سے معافی مانگ لیتے کہ
“یا اللہ! نیت ہمیشہ تھی، بس حالات ساتھ نہ دے سکے۔”
مگر اب وقت بدل چکا تھا۔
بچے بڑے ہو گئے تھے۔
اب وہ معصوم سوال کرنے لگے تھے۔
“ابو… اس بار ہم قربانی کریں گے نا؟”
یہ ایک جملہ عبدالباسط کے سینے میں تیر کی طرح اترتا۔
وہ بچوں کے چہروں پر چمکتی امید دیکھتے اور خاموش ہو جاتے۔
کبھی پانی مانگ لیتے، کبھی موبائل دیکھنے لگتے، کبھی موضوع بدل دیتے… کیونکہ ان کے پاس لفظ نہیں تھے۔
صرف بے بسی تھی۔
اس رات عبدالباسط بہت دیر تک جاگتے رہے۔
گھر کے سب لوگ سو چکے تھے مگر وہ چھت پر بیٹھے آسمان کو دیکھ رہے تھے۔
ان کی آنکھوں میں نمی تھی۔
وہ سوچ رہے تھے کہ ایک باپ آخر کب تک اپنی اولاد کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے سامنے خود کو بے بس محسوس کرتا رہے گا؟
انہیں اپنی جوانی یاد آئی…
جب انہوں نے اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے خریدنے کی خاطر اپنا کوٹ نہیں خریدا تھا۔
جب بیٹی کی دوائی کے لیے اپنی ضرورت قربان کر دی تھی۔
جب بیٹے کی فیس بھرنے کے لیے مہینوں پیدل دفتر گئے تھے۔
زندگی بھر عبدالباسط نے اپنی خواہشات کی قربانی دی تھی…
مگر شاید کسی نے کبھی اسے “قربانی” نہیں کہا۔
اگلی صبح وہ حسبِ معمول خاموشی سے دفتر پہنچے۔
چہرے پر تھکن تھی اور دل میں رات بھر کی دعاؤں کا بوجھ۔
دفتر میں داخل ہوئے ہی تھے کہ اچانک ماحول بدلا بدلا سا محسوس ہوا۔
لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔
کچھ ہی دیر بعد مینیجر نے سب ملازمین کو جمع کیا اور مسکراتے ہوئے اعلان کیا:
“اس بار عیدالاضحی کے موقع پر کمپنی کی طرف سے تمام ملازمین کو ایک اضافی تنخواہ بونس کے طور پر دی جا رہی ہے۔”
یہ سنتے ہی عبدالباسط جیسے ساکت ہو گئے۔
ان کی آنکھوں کے سامنے رات کا وہ منظر گھوم گیا…
وہ خاموش چھت…
وہ اٹھے ہوئے ہاتھ…
وہ لرزتی ہوئی دعا…
“یا اللہ… اس بار میرے بچوں کی خواہش پوری کر دے…”
عبدالباسط نے نظریں جھکا لیں تاکہ کوئی ان کی نم ہوتی آنکھیں نہ دیکھ سکے۔
ہونٹ بے آواز ہل رہے تھے… شاید شکر ادا کر رہے تھے۔
بس پھر کیا تھا۔
انہوں نے اسی وقت جلدی چھٹی لی، گھر پہنچے، بچوں کو آواز دی اور کہا:
“چلو… آج ہم بھی قربانی کا جانور خریدنے جا رہے ہیں۔”
بچوں نے پہلے حیرت سے اپنے باپ کو دیکھا، پھر خوشی سے چیختے ہوئے ان کے گلے لگ گئے۔
شاید برسوں بعد عبدالباسط نے اپنے گھر میں اتنی خالص خوشی دیکھی تھی۔
شام ڈھلتے ڈھلتے گھر کے صحن میں ایک سفید بکرا بندھا تھا۔
بچے اس کے گرد گھوم رہے تھے، اس کے گلے میں ہاتھ ڈال رہے تھے، تصویریں بنا رہے تھے… اور عبدالباسط ایک کونے میں کھڑے خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ان کے چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔
آج پہلی بار انہیں محسوس ہوا کہ
اللہ دیر ضرور کرتا ہے… مگر محروم نہیں کرتا۔
اور شاید اسی دن عبدالباسط نے جان لیا تھا کہ
قربانی صرف جانور کی نہیں ہوتی…
کبھی کبھی ایک باپ اپنی پوری زندگی قربان کرنے کے بعد یہ خوشی حاصل کرتا ہے۔
قربانی
