وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی زرعی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور نئی منڈیوں کی تلاش کے لیے مربوط اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔
وزیراعظم نے اسلام آباد میں زرعی شعبے کے فروغ اور زرعی برآمدات کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ انہوں نے بیرونِ ملک پاکستانی مشنز میں تعینات کمرشل افسران کو ملکی زرعی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرنے کی ہدایت کی۔
شہباز شریف نے کسانوں میں فصلوں کی نگرانی کے لیے دستیاب موبائل ایپلیکیشن سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لیے مؤثر میڈیا مہم شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال پاکستان کی زرعی برآمدات 5.18 ارب ڈالر رہیں۔ چاول، مچھلی، حلال گوشت، آلو، تل، تمباکو، آم اور مکئی اہم زرعی برآمدات میں شامل رہے۔
اجلاس میں زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے ویلیو چینز تیار کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل فارمرز ڈائری—ایگری اسٹیک کے تحت ملک بھر کے کسانوں اور زرعی اراضی کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل ایگریکلچر اینڈ فوڈ سکیورٹی کونسل کو فعال کیا جائے گا، جس میں وزرائے اعلیٰ اپنے اپنے صوبوں کی نمائندگی کریں گے۔
مزید بتایا گیا کہ بہتر زرعی طریقہ کار کے فروغ کے لیے پاکستان گڈ ایگریکلچر پریکٹسز (Pak-GAP) نظام بھی تیار کیا جائے گا۔
