پاکستان اور برطانیہ نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کا ایک منظم طریقہ کار قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اتفاقِ رائے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے درمیان لندن میں ہونے والی وفود کی سطح کی بات چیت میں ہوا۔
ملاقات کے دوران پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور تعاون کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں وزارتِ خارجہ کے درمیان رسمی مذاکرات کے لیے ایک منظم نظام قائم کیا جائے گا، جس کے تحت تعاون کے تمام اہم شعبوں کا جائزہ لیا جائے گا اور ترجیحی معاملات میں پیش رفت کو باقاعدگی سے جانچا جائے گا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سمیت اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے خطے میں پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کی کوششوں اور ان کے ذریعے ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے مشرقِ وسطیٰ میں مذاکرات، سفارت کاری اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا۔
اسحاق ڈار نے سندھ طاس معاہدے اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مسلسل خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالی اور بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے افغان سرزمین سے پاکستان کو لاحق دہشت گردی کے خطرات اور افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔
دونوں جانب نے خطے اور اس سے باہر امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے مسلسل رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔ فریقین نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ تعلقات اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں پاکستانی تارکینِ وطن کے اہم کردار کو بھی تسلیم کیا۔
